سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 448
سبیل الرشاد جلد دوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے کسی میں یہ طاقت نہیں جو کھلے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے۔اور چونکہ وہ بروز محمد کی جو قدیم سے موعود تھا، وہ میں ہوں۔اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے۔کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ایک بروز محمد می جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا۔سو وہ ظاہر ہو گیا۔میں بتا رہا ہوں کہ صرف ایک امتی نبی کی بشارت دی گئی تھی۔66 448 پھر حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۳۰ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس موضوع پر بحث کر رہے ہیں کہ مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ امت محمدیہ پر بند نہیں۔آپ فرماتے ہیں: اور اس ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ناقل ) کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہو گا۔اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔اور اُس کی ہمت اور ہمدردی نے اُمت کو ناقص حالت پر چھوڑنا نہیں چاہا۔اور ان پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑھ ہے بند رہنا گوارا نہیں کیا۔اس کے نیچے حاشیہ ہے۔حاشیہ میں آپ فرماتے ہیں : دد لیکن اِس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔" اسی طرح حقیقۃ الوحی میں آپ فرماتے ہیں : غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور اُمور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔اُن کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرتِ امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط اُن میں پائی نہیں جاتی اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ایک غلطی کا ازالہ صفحه ۱۱، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۱۵ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰