سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 417
417 سبیل الرشاد جلد دوم نے پیدا کیا ہے بندوں کو اس لئے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ کہ اُس کی صفات کی جھلک اُس کے بندوں میں ہو، وہ رنگ چڑھے ، وہ حُسن ان میں پیدا ہو، وہ نور اُن کی زندگیوں سے جھلکے۔جس کی زندگی میں اللہ کا نور چمک رہا ہو ، جس کی زندگی پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن کے نقوش پائے جاتے ہوں، کون ہے دنیا میں جو اُس کی عزت نہیں کرے گا۔لیکن تم اپنے زور بازو سے کسی سے بھی عزت نہیں کروا سکتے۔یہ دنیا کی عزتیں ساری جھوٹی عزتیں ہیں۔یہ خوشامدوں میں لپٹی ہوئی دنیا کی عزتیں دروغ گوئی میں لپٹی ہوئی۔دنیا کی عزتیں عارضی ہیں آج جو شاہی تخت پر بیٹھا ہے کل وہ آپ کو دار پر نظر آتا ہے۔یہ تاریخ کے افسانے نہیں ہیں یہ آج کے واقعات ہیں اس زندگی کے۔سب بڑائیاں اسلام نے ختم کر دیں۔میں تو انگریزی میں کہا کرتا ہوں " Islam is a great Leveller" سب اونچے سر جو تھے ان کو ایک برابر کر کے کھڑا کر دیا۔سب بھائی بھائی برابر۔پریس والے علیحدہ بھی ملتے ہیں بعض دفعہ۔پھر وہ پڑ جاتے ہیں تفصیل میں۔اپنے متعلق بتلائیں کیا مقام ہے آپ کا؟ میں نے کہا میرا مقام ! ایک میرا مقام ہے ہدایت دینے کا ، ایک میرا مقام ہے ہر احمدی میرا بھائی ہے اور ہر احمدی ( یہ حقیقت ہے ) سمجھدار ہے۔وہ آتا ہے، میرے ساتھ بیٹھتا ہے، بالکل بے تکلف باتیں کرتا ہے۔عورتیں خط لکھ دیتی ہیں مجھ کو ، اپنے باپ کو وہ خط نہیں لکھ سکتیں جو مجھے لکھ دیتی ہیں۔گجرات سے ایک دفعہ خط آ گیا کہ میرا باپ زبر دستی شادی کرنا چاہتا ہے۔میں خلیفہ وقت کو اپیل کرتی ہوں ، وہ خط میں نے بند بعد میں کیا پہلے آدمی کو بلایا اور اس کو وہاں بھیج دیا کہ باپ کو سمجھاؤ کہ تمہیں جس چیز کی خدا تعالیٰ نے اجازت نہیں دی ، تم کیسے جرات کر سکتے ہو۔وہ کرنے کی۔بچی کی مرضی کے بغیر شادی نہیں ہو گی۔مخلص تھا مگر غلطی کر رہا تھا کہا نہیں ہو گی۔اب امریکہ سے (ساری دنیا میں یہ حال ہے ) جلسے پر ایک شادی شدہ بچی آئی۔اُس کے خاوند کا مسئلہ تھا اُس کا نہیں تھا لیکن تھا بڑا بھیا نک سا، احمدیت سے پہلے کی زندگی سے متعلق۔اُس کے خاوند کی زندگی سے تعلق رکھتا تھا۔اپنے ملک میں اپنے مزاج کے احمدیوں کے سامنے بات کرنے کی جرات نہیں کی اُس نے۔مجھے کہنے لگی علیحدہ وقت دیں۔میں نے کہا جلسہ ہے مشغولیت بڑی ہے اگر وقت ملا تو دے سکوں گا۔( اکٹھی مل رہی تھیں وہ ساری امریکن احمدی مستورات) اگر نہ دے سکا وقت تو مجھے لکھ کے دے دینا اور تسلی رکھو کسی کو نہیں بتاؤں گا۔وہ مجھے اس نے لکھ دیا اور کسی کو اُس نے نہیں بتایا۔بڑی اہم تھی بات۔پھر میں نے اس کے امیر کو بلا کے، یہ بتائے بغیر کہ ایک واقعہ ہوا ہے، کہا تمہارے ملک کے حالات ایسے ہیں۔اس قسم کے واقعات ہونے لگ جائیں گے آئندہ۔تو تمہیں میں مسئلہ بتا دیتا ہوں سورۃ الڈ ریات آیت ۵۷