سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 418
سبیل الرشاد جلد دوم 600006 418 اسلام کا۔اگر تمہارے سامنے ایسی کوئی بات آئے تو اس کے مطابق حل کر لیا کرنا۔اس طرح اُس کو سمجھایا۔تو کتنا احسان ہے اللہ کا۔آتے ہیں بے تکلف بیٹھتے ہیں، باتیں کرتے ہیں۔آدھی تکلیف تو ویسے دور ہو جاتی ہے اور ساری پھر اللہ تعالیٰ دُور کر دیتا ہے۔مجھ میں تو یہ طاقت نہیں ہے کہ سب احمدی جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں میں ان کی تکالیف دور کر دوں لیکن میرے خدا میں یہ طاقت ہے اور اُس نے یہ اعلان کیا کہ خلافت کو قائم اس لئے کیا جاتا ہے کہ تا کہ دکھوں کو دور کیا جائے۔(نعرہ) اور عجیب عجیب معجزانہ واقعات ہو جاتے ہیں۔ایک لنڈن کا واقعہ سن لیں یعنی مجھ میں تو طاقت ہی نہیں۔میں تو غریب مسکین انسان ہوں۔ایک شخص کے دو تین مہینے کے بعد بچہ ہونا تھا۔مجھے کہنے لگا نام رکھ دیں ایک لڑکے کا، ایک لڑکی کا۔میں نے کہا۔میں تو صرف لڑکے کا ہی نام رکھ دیتا ہوں۔دو مہینے پہلے انگلستان کی ساری لیڈی ڈاکٹر ز نے کہا کہ تیری بیوی کے پیٹ میں لڑکی ہے۔اُس کے دوستوں نے کہا۔جا کے حضرت صاحب سے کہو نام بدلیں۔اُس نے کہا میں نے کوئی نہیں کہنا۔دو مہینے تک اصرار کرتی رہیں لیڈی ڈاکٹرز کہ پیٹ میں لڑکی ہے۔بہت سارے ٹیسٹ نکلے ہیں ، اُن کا دعوی ہے کہ وہ صحیح معلوم کر لیتی ہیں۔اور ہمارے وہاں ہوتے ہوئے بچہ پیدا ہوا اور وہ لڑکا تھا۔ساری لیڈی ڈاکٹروں کی جو تشخیص تھی اور جو علم تھا وہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ایک اور شخص نے مجھے کہا۔اُس نے نام پوچھا میں نے ایک نام لڑکے کا لکھ کے لفافے میں بند کر کے اُس کو دے دیا اور میں نے کہا جب بچہ ہو اس لفافے کو کھولنا اور نام رکھ دینا۔جب اُس نے لفافہ کھولا تو اُس میں ایک ہی نام تھا اور وہ لڑکے کا تھا اور وہ لڑکا اُس کے ہوا تھا۔تو اب میں کیا چیز ہوں یعنی اگر میں ان چیزوں کو اپنی طرف منسوب کروں تو سب سے بڑا دنیا کا پاگل میں ہوں گا مگر خدا کا فضل ہے میں پاگل نہیں ہوں۔میں اپنے مقام کو بھی جانتا ہوں اور اپنے خدا کے مقام کو بھی پہچانتا ہوں۔مجھ سے کینیڈا میں پوچھا ایک شخص نے کہ اسلام میں وحی اور الہام کا کیا تصور ہے۔ان لوگوں کی عادت ہے کہ جو بھی بتاؤ کہتے ہیں کہ بائیبل میں بھی یہی لکھا ہوا ہے۔میرے ساتھ تو چالاکیاں کرنی مشکل ہیں۔میں نے کہا پہلے تم مجھے یہ بتاؤ کہ بائیل میں وحی اور الہام کا کیا تصور ہے۔اُس نے بتایا بائیل کیا کہتی ہے۔پھر میں نے اُس کو بتایا کہ اسلام میں وحی اور الہام کا یہ تصور ہے اور میں تمہیں مثال دیتا ہوں ۱۹۷۴ ء کی۔جب یہ کہا گیا کہ سوال و جواب ہوں گے اور اُسی وقت آپ نے جواب دینا ہوگا تو صدر انجمن احمدیہ نے لکھا کہ نوے سال پر لٹریچر پھیلا ہوا ہے۔سینکڑوں کتابیں ہیں اور امام جماعت احمدیہ کا یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ ساری کتب ان کو زبانی یاد ہیں۔اس واسطے ایک دن پہلے آپ سوال کریں اور اگلے دن جواب مل جائے گا۔انہوں نے کہا نہیں یہی ہو گا۔طبعا بڑی اہم ذمہ داری تھی اور پریشانی۔ساری