سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 416
416 سبیل الرشاد جلد دوم اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا کہ دنیا میں یہ اعلان کر دو کہ بشر ہونے کے لحاظ سے میں ہرانسان کے برابر ہوں۔کسی انسان مرد ہو یا عورت اُس میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں۔قُلْ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ) اور یہ اتنا عظیم اعلان ہے کہ جس وقت میں نے ۱۹۷۰ء میں غانا ہی میں ٹیچی مان کے مقام پر دس ہزار کے مجمع میں اور بہت سارے اُس وقت آئے ہوئے تھے بُت پرست وغیرہ بھی یہ اعلان کیا۔اُن کا لاٹ پادری بھی آیا ہوا تھا وہاں اور کہنے والوں نے بتایا کہ وہ اس طرح اُچھلا جس طرح کسی نے اُسے سوئی چبھودی ہے۔میں نے کہا دیکھو جو سب سے بڑا تھا اس کے منہ سے خدا نے یہ اعلان کروایا انسان کو مخاطب کر کے کہ انہیں کہہ دو بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں تو وہ جو بہر حال اُس سے جو نیئر ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام وہ اور اُن کے ماننے والے تم پر برتری کا دعوی نہیں کر سکتے۔اس پر خوشی کی زبر دست لہر دوڑی افریقنز میں اور وہ پادری پریشان ہوئے کہ ہماری برتری کو خاک میں ملا دیا گیا ہے۔حقیقت یہی ہے اسلام نے اس اعلان کے ساتھ دنیا کا دل جیتا ہے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔بلال جو اپنے آقاؤں کا جو حاکم وقت تھے مکہ میں غلام تھا ، ان کے کوڑے کھایا کرتا تھا ، اُس بلال کو زمین سے اُٹھا کر آسمانوں تک پہنچا دیا کہ خلیفہ وقت بھی اُسے مخاطب کر کے کہتے تھے سیدنا بلال، کہیں دنیا میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ہمارے ہاں بھی ہندوؤں کی روایتیں چلی آ رہی ہیں کہ یہ پٹھان ہے اور یہ وہ ہے اور یہ وہ ہے۔احمدیت اور اسلام میں پٹھان وٹھان کوئی نہیں سارے مسلمان ہیں ہاں اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتَّقُكُمْ نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوششیں کرو۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جو زیادہ عزت پائے گا دنیا کی نگاہ میں وہی زیادہ معزز بن جائے گا۔خدا تعالیٰ کی نگاہ سے گر کے نہ تمہارا مغل ہونا نہ تمہارا سیّد ہونا نہ تمہارا پٹھان ہونا نہ تمہارا چو ہدری ہونا نہ راجپوت ہونا قطعاً کوئی معنے نہیں رکھتا۔اگر تم خدا کی بات نہیں مانتے ، اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کے لئے تیار نہیں تو میں سچ کہتا ہوں کہ دنیا بھی تمہیں جو تیاں مارے گی اور تمہاری کوئی عزت نہیں کرے گی۔آج وہی عزت پائے گا جو قرآن کریم کی عزت کرنے والا ہو گا۔آج وہی عزت پائے گا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو اس مضبوطی سے پکڑے گا کہ دنیا کی کوئی طاقت اُس سے اس دامن کو چھڑوا نہیں سکے گی۔آج وہی عزت پائے گا جو خدائے واحد و یگانہ کی وحدانیت کے ترانے گا تا ہوا اپنی زندگی کے دن گزارے گا۔خدا تعالیٰ خالقِ گل ، مالک گل ، ساری صفاتِ حسنہ اُس میں پائی جاتی ہیں۔ایسی عظیم ہستی ہے کہ انسان اُس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔وہ پیار کرنا چاہتا ہے اپنے بندوں سے۔اُس سورۃ الکہف آیت ۱۱۱ سورۃ الحجرات آیت ۱۴