سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 20 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 20

20 سبیل الرشاد جلد دوم جن جنتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔خدا کا وہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔خوف اور حزن کی بجائے خوش ہوا ور خوشی سے اچھلو کہ خدا تعالیٰ نے تم سے جو وعدے کئے ہیں۔وہ بہت ہی بلند اور ارفع ہیں اور اتنے وسیع ہیں ، اتنے خوبصورت ہیں، اتنے حسین ہیں ، اتنے پائیدار اور ابدی ہیں کہ دنیا کا ان کے ساتھ کوئی مقابلہ ہی نہیں۔اس لئے خوف کا مقام نہیں کیونکہ تمہاری تمام کمزوریوں کے با وجود دنیا کی کوئی طاقت تمہیں مٹا نہیں سکتی۔اور دنیا کا تمہارے ہاتھ سے نکل جانا تمہیں اس لئے غمگین نہیں کر سکتا کہ جو تم سے امتحان کے رنگ میں لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں انعام کے رنگ میں دیا جائے گا۔اور وہ فرشتے ان سے کہیں گے نَحْنُ اَولِیؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے متکفل ہیں کہ تم میرے ان بندوں کو یہ بتا دو کہ اس دنیا میں بھی فرشتے ان کے دوست ہیں اور ولی ہیں اور منہ اور اخروی زندگی میں بھی وہ ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔کیونکہ ان کی دوستی خدا کے حکم سے وفا کے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھے ہوئے ہے۔جس طرح اس دنیا میں وہ فرشتے ان کے ولی ہیں۔آخرت میں بھی وہ ان کے دوست اور ولی ہوں گے۔پھر فرمایا وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي اَنْفُسُكُم الله تعالیٰ مومن کو اس مقام پر کھڑا کر دیتا ہے کہ اس کے دل کی خواہش ہی وہ ہوتی ہے جو نیک اور صالح ہو۔اور وہ پوری ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کو دنیا میں دکھ کیوں پہنچتے ہیں، اذیتیں انہیں کیوں اٹھانی پڑتی ہیں ؟ آپ نے اس اعتراض کا کیا ہی لطیف جواب دیا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ تم کہتے ہو کہ خدا کے بندوں کو خدا کی راہ میں کیوں تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔تم ان سے تو جا کے پوچھو کہ وہ کیا سمجھتے ہیں۔جو تمہاری نگاہ میں تکلیف اور ایذا ہے ان کی نگاہ اور ان کے احساس میں وہی لذت اور سرور ہے۔اس لئے تمہارا یہ اعتراض ہی غلط ہے۔کیونکہ وہ بندہ خدا اسے دُکھ اور ایذ انہیں سمجھ رہا۔وہ تو کہتا ہے کہ دنیا بجھتی ہے کہ وہ مجھے ایذا دے رہی ہے۔مگران کی ایذا دہی کے نتیجہ میں جولذت اور سرور مجھے مل رہا ہے اس سے تو دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ اس سے دس گنا ، اس سے ہیں گنا ، اس سے سو گنا اس سے ہزار گنا اس سے بے شمار گنا اذیت دیں اور دکھ پہنچا ئیں تا موجودہ لذت سے بے شمار گنا