سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 176

176 سبیل الرشاد جلد دوم ہوں گے۔منافق اللہ کی راہ میں وہ قربانیاں دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا جو ایک مومن کو دینی چاہئیں۔اس لئے کہ اللہ تعالے کی بشارتوں پر اس کو ایمان نہیں ہوتا اور وہ یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دیتا ہے کہ جو وعدے ہم سے کئے گئے ہیں اور جن کے لئے ہم سے قربانیاں مانگی جارہی ہیں وہ پورے نہیں ہوں گے اس لئے ہمیں قربانی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر کسی شخص کو یہ کہا جائے کہ اگر تم فلاں کام کرو تو میں تمہیں ایک ہزار روپیہ دونگا۔اب اگر وہ سمجھے کہ دعدہ کرنے والا جھوٹا ہے تو وہ یہ کام نہیں کرے گا۔کام کرنے کے لئے مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے اور چونکہ وہ یہ جانتا ہے کہ اگر میں نے یہ کام کر بھی لیا تب بھی یہ وعدہ پورا نہیں ہوگا اور وہ شخص مجھے ہزار روپیہ نہیں دے گا اسلئے وہ اس کام کو نہیں کرے گا۔سومنافق اللہ تعالے پر ایمان نہیں رکھتا، نہ اس کے وعدہ پر اور نہ اس کی بشارتوں پر ایمان رکھتا ہے۔ایک شخص کے کان میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ کہتا ہے کہ میری راہ میں قربانی دو تو میری جنت میں جاؤ گے۔اگر واقعہ میں وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے تو وہ ساری دنیا کو چھوڑ دے گا اور دنیا کی پروا نہیں کرے گا اور وہ کہے گا کہ یہ خدا کا وعدہ ہے اور وہ بچے وعدوں والا ہے جو چیز اس سے مانگی گئی ہے وہ اس کے مقابلہ میں جس کا وعدہ کیا گیا ہے بالکل حقیر ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ دو پیسے مجھے دے دو۔میں تمہیں ایک روپیہ دونگا۔اور وہ کہے میں نہیں دیتا۔ایسا جواب کوئی جاہل یا کم عمر ہی دے سکتا ہے۔مثلاً بچہ ہے کئی دفعہ جنسی میں باپ اپنے بچہ کو کہتا ہے کہ آ نہ جو تم نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے۔یہ مجھے دے دو۔میں تمہیں روپیہ دونگا وہ کہے گا کہ نہیں۔اس کا ایسا کرنا کم عمری اور جہالت کی وجہ سے ہوگا۔سو اس قسم کے طرز عمل کا ایک منبع تو جہالت ہے اور دوسرا کم عمری ہے۔اسی طرح اللہ تعالئے وعدہ کرتا ہے اور منافق جس کے دل میں نفاق ہوتا ہے شیطان کا سایہ اس کے سر پر ہوتا ہے ، اس کی رگوں میں شیطان کی ظلمات دوڑ رہی ہوتی ہیں ، اس وعدہ پر یقین نہیں رکھتا۔خدا وعدہ کر رہا ہوتا ہے کہ تھوڑا سا دے دو میں بہت کچھ دوں گا تو منافق اس بچے کی طرح جس کو علم نہیں ہوتا کہتا ہے کہ میں نہیں دیتا۔منافق اپنے طرز عمل سے دنیا میں یہ اعلان کرتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے وعدے جھوٹے ہیں وہ پورے نہیں ہوں گے۔ہر وہ شخص جس کا ایمان کمزور ہے اور وہ اللہ تعالے کو اس قدر قادر و توانا نہیں سمجھتا جس قدر کہ وہ ہے اور اس قدر با وفا اور وعدے کا سچا نہیں سمجھتا جو اللہ تعالیٰ ہے وہ کہتا ہے میں قربانی نہیں دیتا۔اللہ کہتا ہے کہ اس دنیا میں جسمانی تکالیف اٹھاؤ۔یہ دنیا عارضی ہے یہ عمر بہت چھوٹی ہے۔زیادہ سے زیادہ اسی سال کا کوئی ہوگا۔میرے خیال میں میرے سامنے شاید ہی کوئی اسی سال کا بیٹھا ہو۔ورنہ ساٹھ ستر سال کی عمر میں انسان کو پتہ لگ جاتا ہے کہ میرا تعلق اس دنیا سے ۸۰