سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 175
175 سبیل الرشاد جلد دوم اور ارتقاء کی کمزوری کی وجہ سے کامل نہیں تھیں اور نہ ہو سکتی تھیں۔تو چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کامل اور مکمل شریعت دی گئی ہے اس لئے وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی لائی ہوئی ہدایت کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزاریں گے اللہ تعالے پہلوں کے مقابلہ میں ان سے کہیں زیادہ رحمت کا سلوک کرے گا۔اس واسطے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رحمت کا سلوک اس طرح ہوگا کہ ایک ایسا نو ر تمہیں دیا جائیگا کہ جس کی روشنی میں تم زندگی گزارو گے۔دنیا میں بغیر روشنی کے انسان راہ راست پر نہ چل سکتا ہے اور نہ قائم رہ سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ میں سے بہتوں کو رات کے اندھیروں میں سفر کرنے کا موقع ملا ہوگا اور بہت سے راتوں کو سفر کرنے والے راہ گم کر جاتے ہیں۔راہ کے نشان ان کو صحیح طور پر پستہ نہیں لگتے اور وہ راستہ بھٹک جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ ہی نہیں سکتے۔بعض دفعہ کچھ دور جانے کے بعد پھر ان کو پتہ لگتا ہے کہ ہم غلط راہ پر آگئے ہیں۔جو راہ دس کوس کی تھی اس کی بجائے ان کو ہیں کوس چل کر اپنی منزل تک پہنچنا پڑتا ہے اس طرح پر ایک کمزوری واقع ہوتی ہے، فرمایا کہ تمہیں ایسا نور ملے گا جس کے ساتھ مغفرت بھی ہوگی۔اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے گا کہ تمہاری کمزور یاں اللہ تعالے کی مغفرت کے نیچے چھپ جائیں گی اور تمہارا نور جو تمہیں عطا ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے شعلہ زن ہوکر ( کیونکہ وہی حقیقی نور ہے ) تمہاری راہوں کو اس طرح روشن کر دے گا کہ تمہیں اپنے راستہ سے بھٹکنے کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہے گا اور تم اپنے رب کے حضور پہنچ جاؤ گے۔کیونکہ تم میں سے ہر فردِ واحد کی جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اس کی منزل یہی ہے ، اس کا مقصود یہی ہے کہ وہ اس زندگی میں اپنی استطاعت کے مطابق روشن راہوں کو جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ روشن کی گئی ہیں اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کے قرب کو ، اس کی رضا کو حاصل کرے۔تو یہاں ایمان کے بعد پھر تقویٰ کا ذکر اور پھر حقیقی ایمان کا ذکر ہمیں بتاتا ہے کہ ایمان حقیقی وہی ہوتا ہے جس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہ ہو۔اور اس اقتباس میں اس بات کو ہماری زبان میں سہل طریق پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ظاہر کیا ہے۔ایمان نفاق سے آلودہ نہ ہو پھر آپ فرماتے ہیں : ” اور وہ ایمان نفاق یا بز دلی سے آلودہ نہ ہو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔کہ منافق کہتے ہیں کہ مَّا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا کہ جو اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے وعدے کئے ہیں وہ جھوٹے ہیں وہ پورے نہ سورۃ احزاب آیت ۱۳