سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 177
177 سبیل الرشاد جلد دوم کمزور ہورہا ہے اور یہ کہ میں اُس دنیا کی طرف جا رہا ہوں۔اگر اس کو آخرت پر ایمان ہو اور اللہ تعالے کے وعدوں پر ایمان ہو تو یہ اتنی چھوٹی سی عمر ہے کہ آخرت کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ انسان سے کہتا ہے کہ اس چھوٹی سی عمر میں تم کو میری خاطر اگر تکلیف اٹھانی پڑے تو اٹھاؤ میں تمہیں ابدی حیات اور ابدی مسرتیں دکھاؤں گا۔منافق کہتا ہے کہ اللہ کے وعدے جھوٹے ہیں۔نہ اُخروی زندگی ہے اور نہ اللہ کے وعدے پورے ہوں گے۔اس پر اس کا ایمان نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس چیز کا یہاں ذکر کیا ہے کہ وہ ایمان نفاق سے آلودہ نہ ہو “ ہر احمدی کو پھر ایک زندہ خدا پر یقین کرنے کے لئے اکٹھا کیا گیا ہے۔یعنی وہ پیدا احمدی ہوا ہے یا وہ باہر سے آ کر داخل ہوا ہے۔منافق والا ہما را عمل نہیں ہونا چاہئے ، نہ ہما را دعوی ایسا ہونا چاہئے ، نہ ہمارا اعلان ویسا ہونا چاہئے۔پکے ایمان والا ہما را دعوئی اور اعلان ہونا چاہئے۔خدا کہتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد میں تمہارے ذریعہ سے اسلام کو ساری دنیا پر غالب کر دوں گا۔خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی خدا تعالے یہ کہتا ہے کہ وہ چیزیں جو میں نے تمہیں دی ہیں اب میں تم سے مانگتا ہوں۔میں اسے تمہاری طرف سے قربانی سمجھوں گا اور اس سے بڑا بدلہ دوں گا تو تم اس بات پر اس وعدہ پر اس بشارت پر ایمان لاؤ۔منافق جو سمجھتا ہے میں ویسا نہیں۔میرا وعدہ جھوٹا نہیں ہے۔میں سچے وعدوں والا ہوں۔جومیں کہتا ہوں وہ پورا کرتا ہوں۔مجھے قدرت ہے کہ جو کہوں میں وہ پورا کر دوں۔کیونکہ بے وفا آگے دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو بدنیت ہوتے ہیں اور شیطان کے چیلے ہوتے ہیں ، جب وہ وعدے کرتے ہیں اسی وقت ان کی نیت ہوتی ہے کہ وہ انہیں پورا نہیں کریں گے۔لیکن ایک بے چارہ انسان وہ بھی ہوتا ہے جو خلوص نیت کے ساتھ وعدہ کرتا ہے۔اس کے حالات بدل جاتے ہیں وہ وعدہ پورا کر ہی نہیں سکتا۔مثلاً کوئی زمیندار ہے اس نے کسی کو دس ہزار روپے دینے کا وعدہ کا کیا لیکن ژالہ باری ہوئی اس کی فصلیں خراب ہو گئیں۔اب جو اس نے فصل آنے پر وعدہ پورا کرنا تھا وہ اسے پورا کر ہی نہیں سکتا۔نیت میں فتور نہیں تھا۔طاقت میں فتور ہے۔لیکن اللہ تعالے کو تو سب طاقت ہے اس میں کوئی کمزوری نہیں وہ سب طاقتوں کا مالک اور سب قوتوں کا مالک ہے بلکہ سب طاقتوں اور قوتوں کا وہی سر چشمہ ہے۔انسان کو یا کسی دوسری مخلوق کو جو طاقت جسمانی یا ذہنی یا علمی یا روحانی ملی ہے وہ اس نے دی ہے۔گھر سے تو کچھ نہ لائے۔کون کہہ سکتا ہے کہ میں پیدائش کے وقت اپنے ساتھ یہ چیزیں سمیٹ کر لایا تھا۔پیدائش کے وقت تو اسے اپنی بھی ہوش نہیں تھی۔چیخ مار کر تو وہ دنیا میں داخل ہوا تھا اور بے سہارے وہ اپنا بچپنا بھی نہ گزار سکتا