سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 533 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 533

63 زیادہ انسان کر سکتا ہو کر دے اور باقی (جیسا کہ خدا نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم اپنی سی کر لو گے تو کمی کو میں پورا کر دوں گا)۔انسان دعا کرے کہ اے خدا! میری کوشش کو خواہ وہ حقیر ہی کیوں نہ ہو ایسا بنادے کہ قبول ہونے کے لائق ہو تیرے حضور اور جب خدا قبول کر لیتا ہے انسان کی کوشش کو تو خامیاں دور کر دیتا ہے اور نتائج پورے نکال دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے خدام کو اپنی ذمہ داریاں ، انصار کو اپنی ذمہ داریاں اور جماعت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور اس کے نتیجے میں اس نے جو نعماء کے وعدے اور بشارتیں دی ہیں وہ ہماری نسلوں میں ہماری زندگیوں میں اور آنے والی نسلوں کی زندگیوں میں پوری ہوں۔آمین (خطبات ناصر جلد ہشتم صفحہ 335-337) انصار اللہ کے اجتماع میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہو۔ہمارے سی اجتماع ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لئے منعقد ہوتے ہیں حضور نے 14 ستمبر 1979ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔پہلے بھی میں نے توجہ دلائی ہے ذکر کے ماتحت اس وقت بھی میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں خدام الاحمدیہ کی عمر کی نمائندگی ہر جماعت سے ہونی چاہیئے۔خدام الاحمدیہ کے اجتماع سوائے چند تنزل کے سالوں کے ہمیشہ ہی پہلے سے بڑھ چڑھ کر تعداد کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں لیکن میرے دل میں یہ خواہش ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جماعتی تربیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ خدام وانصار کے اجتماع میں جماعت ہائے احمد یہ پاکستان کی تمام جماعتیں شمولیت اختیار کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری یہ خواہش ہے کہ کوئی ایسی جماعت نہ رہے جس کا کوئی نمائندہ اس اجتماع میں شامل نہ ہو۔اس لئے میں امرائے اضلاع کو اور مربی صاحبان کو اور ان کو جو ان لوگوں کی نگرانی کرنے والے ہیں یہ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ذمہ دار ہیں اس بات کے کہ ہر جماعت سے خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں نمائندہ آئے۔اگر چھوٹی جماعت ہے ایک نمائندہ آئے مگر آئے ضرور۔ہر جماعت سے انصار اللہ کے اجتماع میں نمائندہ شامل ہو خواہ ایک ہی ہوا گر وہ چھوٹی جماعت ہے لیکن آئے ضرور۔ہمارے یہ اجتماع دنیوی میلے نہیں۔یہ اجتماع ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لئے منعقد کئے جاتے