سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 534
64 ہیں۔ذہنی تربیت کے لئے اس معنی میں کہ بہت سی نیکی کی باتیں شامل ہونے والوں کے کانوں میں پڑتی ہیں اور ذہنوں میں جلا پیدا ہوتا ہے اور اخلاقی لحاظ سے اس معنی میں کہ اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے خدام وانصار کو کہ حقیقی مسلمان بنے کی کوشش کرو۔(خُلُقُهُ الْقُرْآنُ)۔( خطبات ناصر جلد هشتم صفحه 347-349) جلسہ میں زیادہ سے زیادہ انصار، خدام اطفال کو آنے کی تلقین حضور نے 21 ستمبر 1979ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔جہاں تک یہاں کی جماعت کا تعلق، پاکستان کی جماعت کا، ان کا تو کام ایک ہے اور وہ اسے کرتے ہیں اور پیار سے اور عشق سے کرتے ہیں ان کا کام یہ ہے کہ جتنے زیادہ سے زیادہ جلسے پر دوست آسکیں آئیں ہمیں معلوم ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک گاؤں جو قریباً سارا احمدی ہو چکا ہے وہ سارے کا سارا آ جائے۔انہوں نے اپنے جانور بھی سنبھالنے ہیں، اپنے گھروں کو بھی سنبھالنا ہے، اپنے بیماروں کو بھی سنبھالنا ہے اپنے بوڑھوں کو بھی سنبھالنا ہے، وہاں اپنی مقامی ایسی ذمہ داریاں ہیں جنہیں چھوڑ کے وہ نہیں آسکتے۔ایک حصہ ایسا بھی ہے صرف ایک حصہ آتا ہے۔ہر سال آنے والوں کی تعداد پچھلے سال سے بڑھی ہوتی ہے ہر سال دنیا کی جماعت احمدیہ کی تعداد بڑھ جاتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔یہ اس کا ایک منصو بہ اور تدبیر ہے جو پوری ہورہی ہے ہزاروں کی تعداد میں دوران سال نئے احمدی ہو چکے ہوتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں بچے جو مثلاً اکیلے یہاں نہیں آسکتے تھے اور ماں باپ کے ساتھ ہی آسکتے تھے وہ اکیلے آنے والے بن گئے۔ہزاروں کی تعداد میں طفل خادم بن گیا۔خادم انصار اللہ میں شامل ہو گیا۔چھوٹا بچہ جو ہے اس کو شوق پیدا ہو گیا کہ میں نے ضرور جانا ہے۔بعض دفعہ چھ چھ سات سات سال کا بچہ پیچھے پڑ جاتا ہے کہ میں نے ضرور جلسے میں شامل ہونا ہے، میں پیچھے نہیں رہ سکتا۔ہر سال ایسے نئے آتے ہیں۔بعض ان میں سے میرے سامنے بھی آتے ہیں مجھے بتاتے ہیں کہ یہ کچھ عذر بھی تھے لیکن بچوں نے کہا نہیں ہم تو نہیں چھوڑ سکتے جلسہ۔ایک تو یہ ہر سال زیادتی ہوتی ہے جلسے کی تعداد میں زیادتی ہوتی ہے کئی وجوہات کی بنا پر۔ایک یہ ہے کہ تعداد بڑھ گئی جماعت کی ، شوق پیدا ہو گیا بعض لوگوں میں جو پہلے نہیں تھا اور جو ابھی احمدی نہیں ہوئے ان کو بھی شوق پیدا ہوتا ہے کہ جلسہ دیکھ آئیں ، ان کی تعداد بھی ہر سال بڑھ جاتی ہے۔خطبات ناصر جلد ہشتم صفحہ 358-359)