سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 532 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 532

62 خدمت کی ذمہ داری ڈالی لیکن اس کے لئے جن علوم کی مجھے ضرورت ہے کہ مجھے اخلاق کے سارے پہلو معلوم ہوں روحانیت میرے اندر پیدا ہو، مجھے یہ معلوم ہو کہ میں اپنے جسموں کی اور دوسروں کے جسموں کی صحیح نشو ونما اور تربیت کیسے کر سکتا ہوں ، کس رنگ میں ان کی خدمت بجالا سکتا ہوں۔یہ دعائیں ہیں خدام کی جو بڑے ہیں ان کی یہ دعا ہے کہ اے خدا ہماری ذریت کو اور ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو اپنا بندہ بنا۔ان کے دلوں میں اپنا پیار پیدا کر۔ہمارے لئے قرۃ العین ہوں وہ ہماری بدنامی کا باعث نہ بنیں۔لوگ یہ نہ کہیں کہ خود تو انہوں نے دینی میدان میں ظاہری رنگ میں (باقی دلوں کا حال تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) بہت بلند مقام حاصل کئے لیکن ان کے بچے خراب ہو گئے۔آنے والی نسلیں آباء کے مقام سے گر گئیں۔یہ دعائیں ہیں ان کی اور تربیت کی ذمہ داری دعاؤں کے پہلو بہ پہلو آگے بڑھتی ہے۔جس طرح خدام کیلئے خدمت کی ذمہ داری دعاؤں کے ساتھ۔وو دعا اور خدمت پہلو بہ پہلو آگے بڑھتے ہیں۔انصار کے لئے تربیت کی ذمہ داری دعاؤں کے ساتھ دعا اور تربیت“ پہلو بہ پہلو آگے بڑھتے ہیں۔اور جماعت کو جو دو باتیں میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں۔ایک تو یہ کہ عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اپنے رب کریم کی رضا اور اس کی نعماء کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔دعاؤں کے ساتھ اس ذمہ داری کو نباہنے کے قابل بنے کی کوشش کرو کہ ساری دنیا میں اسلام کو پھیلانے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور نور کو متعارف کروانے کی ذمہ داری تم پر ہے اور دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ سے یہ نعمت حاصل کرو کہ تم واقع میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو سکتے ہو خدا کی نگاہ میں یعنی اس طور سے نقشِ قدم پر چلنے والے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کا صحیح معنی میں اور حقیقی رنگ میں دوسروں کے لئے اسوہ بن جاؤ اور تمہاری زندگیوں کو دیکھ کر اور تمہارے اعمال کو دیکھ کر تمہارے اسوہ کے حسن کے گرویدہ ہو کر وہ جو ابھی تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے سایہ کے نیچے نہیں آئے وہ اس طرف کھیچے آئیں۔جذب ہو تمہارے اندر۔اپنے لئے نہیں چونکہ تمہارا مقام تو نیستی کا مقام ہے ہر دو پہلو سے (۱) اس لئے بھی کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تمہارا مقام نیستی کا ہے اور (۲) اللہ تعالیٰ کے مقابل تمہارا مقام نیستی ہے۔وہ عظیم ہستی جس کے سامنے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کے اور فنافی اللہ ہو کر نیستی کا مقام حاصل کیا۔جس مقام پر دنیا فخر کرتی آئی ہے اور فخر کرتی چلی جائے گی۔تو کبر اور غرور نہیں بلکہ ” خدمت عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ تربیت کی توفیق پانا خدام وانصار کا اور اتنی بڑی ذمہ داری ! اتنی بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے تم پر کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جب آدمی سوچتا ہے کہ ذمہ داری کتنی بڑی ہے اور طاقت کس قدر تھوڑی۔یہی سمجھ آتا ہے کہ خدا سے دعا مانگ کر جتنا زیادہ سے 9966