سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 528 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 528

58 کچھ تو وہ ہوں گے جو پچھلے سال بھی رضا کار بن کر آئے تھے وہ تو تربیت یافتہ ہیں ان کی فکر نہیں اور جو پہلی دفعہ آئیں گے ان میں کمزور بھی ہوں گے، نا سمجھ بھی ہوں گے، نا تجربہ کار بھی ہوں گے اس واسطے امراء صاحبان اور خدام الاحمدیہ کے قائدین ہر دول کر ہر لحاظ سے اپنی تسلی کریں۔صرف ان کی مستعدی کو اور ان کے اخلاص کو نہیں دیکھنا بلکہ جلسے کی ضرورت کے لحاظ سے جس قسم کے آدمی وہ سمجھتے ہیں کہ ضروری ہیں اس قسم کے آدمی یجیں۔عام طور پر ہمارے امرا تو بہت سے جلسے دیکھ چکے ہیں اور ان کو پتا ہے ان کے دل میں کبھی شکایتیں بھی پیدا ہوئی ہوں گی جن کو وہ خدا کے لئے بھول گئے۔بہر حال وہ تسلی کر کے بھیجیں کہ مسیح نو جوان ہو صحیح سے میری مراد یہ ہے کہ جو جلسہ سالانہ کے کام کے لئے موزوں اور مناسب ہوا اور یہ ضروری نہیں ہے کہ نو جوان ہی ہو بلکہ بہت سے ایسے کام ہیں جن میں بڑی عمر کے آدمی شاید زیادہ اچھا کام کر سکیں۔کچھ نہ کچھ حصہ تو ثواب میں ان کو بھی ملنا چاہئے جن کو میں جوانوں کے جوان کہا کرتا ہوں یعنی جن کا انصار اللہ کے ساتھ تعلق ہے۔پس قابل اعتماد اور اپنے نفسوں پر قابورکھنے والے غصہ میں نہ آنے والے، پیار سے خدمت کرنے والے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق رکھنے والے اور آپ نے جو جماعت پیدا کی ہے اس کے نظام کے لئے ہر قسم کی تکلیف برداشت کر کے جماعت کے کام کو حض عمل کے ذریعہ نہیں بلکہ حسن عمل کے ذریعہ سرانجام دینے والے رضا کار ہمیں چاہئیں۔باہر کی جماعتیں مہیا کریں گی۔میں آج خطبہ میں ان کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں"۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ 460) ربوہ سے باہر کی جماعتیں انصار کو بطور رضا کا رجلسہ پر ربوہ بھجوائیں حضور نے اپنے خطبہ جمعہ 8 دسمبر 1978 ء میں فرمایا۔دوسری بات جو میں آج کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ منتظمین جلسہ کا خیال ہے کہ اہل ربوہ ان کو مناسب اور پوری تعداد میں رضا کار نہیں دیں گے اور میرا یہ خیال ہے کہ اہل ربوہ منتظمین جلسہ کو پوری تعداد میں رضا کار دے دیں گے۔یہ ہمارا اختلاف رائے ہو گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ کا عمل مجھے جھوٹا بناتا ہے یا ان کو غلط قرار دیتا ہے اس لئے آج میں اطفال اور خدام کو خصوصاًاور انصار کو عموماً مخاطب کرتا ہوں۔پچھلی دفعہ جب میں نے کہا تھا کہ رضا کار دو تو ربوہ میرا مخاطب تھا یعنی ربوہ کے سارے مکین لیکن آج میں علیحدہ علیحدہ تنظیموں کو مخاطب کرتا ہوں کہ جتنے رضا کار ہمیں چاہئیں اتنے مل جانے چاہئیں"۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ 493)