سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 529 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 529

59 احباب مجلس انصار اللہ کی شائع کردہ کتب کا مطالعہ کیا کریں حضور نے جلسہ سالانہ 1978 ء کے دوسرے روز کے خطاب 27 دسمبر 1978 ء میں فرمایا۔حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی تین کتب شائع ہوئی ہیں یہاں اردو، احمدیت یعنی حقیقی اسلام، سیر روحانی جلد اول اور ہمارا رسول، اور انصار اللہ مرکزیہ کی طرف سے اسلامی معاشرہ اور یہ صدر صاحب انصار اللہ کی مختلف تقریریں ہیں ان کی یا انہوں نے کتاب یہ کھی ہے اور انصار اللہ کی تاریخ۔یہ تھا تو انصار اللہ کے ساتھ تعلق آپ پڑھیں اور ان کو ان اپنے بچوں نو جوانوں کو بھی پڑھا ئیں جو آج نہیں تو کل انشاء اللہ اللہ تعالیٰ ان کی عمریں لمبی کرے، انصار میں شامل ہونے والے ہیں۔" خطابات ناصر جلد دوم صفحہ 326-327) بعض انصار کو بھی بنیادی مسائل کا علم نہیں۔ان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے حضور نے جلسہ سالانہ 1978 ء کے اختتامی خطاب مورخہ 28 دسمبر 1978ء کو فرمایا۔اگر Census صحیح ہو ہمارے اندازہ کے مطابق قریباً کم و بیش چالیس لاکھ احمدی اللہ کے فضل سے پاکستان میں ہیں۔ان میں چھوٹے شیر خوار بچے بھی ہیں ان میں بوڑھے بھی ہیں۔ان میں وہ بھی ہیں جن کو ان مسائل کا علم ہے۔( رفقاء ) میں سے بھی بہت سے زندہ ہیں ان سے سننے والے بھی ہیں لیکن جو میرے مخاطب ہیں اطفال اور نو جوان، خدام الاحمدیہ کی عمر کے یا بچے جن کو میں کہوں گا یا نوجوان ہیں جنہیں کہوں گاوہ دو قسم کے ہیں اور ایک تو وہ ہے جو احمدی گھر میں بچہ پیدا ہوا پھر وہ اپنی عمر سے گزرتا ہوا ایک طفل جو ہمارا نظام ہے اطفال کا اس کی عمر کو پہنچا۔پھر اس سے نکلا۔پھر وہ خدام الاحمدیہ کی عمر کو پہنچا۔پھر اس سے نکلا۔پھر وہ انصار اللہ کی عمر کو پہنچا۔انصار میں سے بھی ہیں بہت سے جن کو ان باتوں کا علم نہیں۔ایک دوسرے بچے بھی ہیں میرے، اور نو جوان اور وہ وہ ہیں جو بیعت کر کے بعد میں جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض کی عمر پانچ سال ، سات سال ، آٹھ سال ، دس سال کی ہے اور بعض کی عمر پندرہ بیس سال کی ہے اور شاذ و نادر ہی ہیں جو اس گروہ میں آئیں گے جو بڑی عمر کے ہیں مثلاً جب افریقہ میں ہمارے مبلغ گئے تو 1944 ء تک بہت تھوڑے احمدی ان ممالک میں تھے۔سینکڑوں ہوں گے۔میرے خیال میں ہزاروں کی تعداد اس وقت شاید ہی کسی ملک میں بنی ہو لیکن اب غانا جو چھوٹا سا ملک ہے