سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 456 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 456

سبیل الرشاد جلد دوم 456 وَ الْأَرْضِ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔پاک اور منزہ ہے ہر عیب سے۔اور مَا فِي السَّمَوتِ وَ الْاَرْضِ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اس کی پاکیزگی کے ترانے گاتے ہیں۔دنیا میں اس وقت جو شکل مذاہب کی ہمارے سامنے آتی ہے صرف ایک مذہب اسلام ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کلی طور پر ہر عیب سے پاک اور منزہ قرار دیا ہے۔باقی جو مذاہب ہیں جب وہ نازل ہوئے اس وقت تو تخیل یہی دیا گیا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے مگر ان کی عقلیں اس مضمون کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکیں اور بعد میں بہت کچھ بدعات اس مذہبی عقیدہ میں اصولی بنیادی عقیدہ میں شامل ہو گئیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں بہت سے نقائص اس کے اندر پائے جاتے ہیں لیکن جو صحیح اور حقیقی اسلام اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں دیا وہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات کلی طور پر ہر عیب اور نقص اور کمزوری اور ضعف سے پاک اور منزہ ہے۔بعض لوگ گزشتہ تیرہ سو سال میں بھی اس حقیقت کو بھول بیٹھے۔یہ کہنا کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے یہ جہالت کا اظہار تو ہے، حقیقت کا اظہار نہیں ہے۔حقیقت یہی ہے کہ خدا تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے اور پاکیزگی کو قائم کرنے کے لئے اس نے قرآن کریم میں بہت سے احکام ہمیں دیئے ہیں۔ان چاروں باتوں کے متعلق احکام کا جو تعلق ہے وہ میں آخر میں بیان کروں گا۔دوسری بنیادی بات اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق قرآنی تعلیم میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من کل الوجوہ کمال حاصل ہے ) اور یہاں وہ پہلی بات بھی آپ نے فرمائی۔”اور رذائل سے بکلی منزہ ہے“ چونکہ وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور حکم اس نے دیا تَخَلَّقُوا بِاخْلَاقِ اللَّهِ۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعلیم میں اور خلق کائنات میں ایسے سامان پیدا کئے کہ انسان اپنی تمام اور ہر قسم کی قابلیتوں ، استعدادوں اور صلاحیتوں پر خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ چڑھا سکے۔تیسری بنیادی تعلیم خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق قرآن کریم میں یہ دی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں تضاد نہیں پایا جاتا۔اور اس کا ذکر سورۃ الملک میں بھی ہے جہاں کہا گیا ہے کہ تمہیں کوئی الحشر آیت ۲۵ براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اصفحه ۴۳۶ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اصفحه ۴۳۶