سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 455
سبیل الرشاد جلد دوم 455 سیدنا حضرت خلیفة انز یلمسیح الثالث رحمہ اللہتعالیٰ کا انتقامی خطاب فرموده کیم نبوت ۱۳۶۰ بهش یکم نومبر ۱۹۸۱ء بمقام بیت اقصیٰ ربوہ ) سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ یکم نبوت ۱۳۶۰ ہش یکم نومبر ۱۹۸۱ء کو بیت اقصیٰ میں مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے جو اختتامی خطاب فرمایا تھا وہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے: تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت الیتی ہے۔یعنی اپنی ذات میں زندہ اور ہر قسم کی زندگی اور حیات بخشنے والا۔ایک قسم یہ ہے کہ انصار اللہ میں زندگی کے آثار بڑھاتا آ رہا ہے۔پچھلے سال انصار اللہ کی جو مجالس اس اجتماع میں شامل ہوئیں ان کی تعداد ۷۵۵ اور جو نمائندگان آئے ان کی تعداد ۱۸۲اتھی۔سالِ رواں میں جو مجالس شامل ہوئیں ہیں ان کی تعداد ۸۴۲ یعنی ۷ ۸ زیادہ اور نمائندگان ۱۳۰۵ یعنی ۱۲۳ زیادہ۔یہ ۴۲ ۸ مجالس شامل ہوئی ہیں اور کل مجالس ۹۳۶ ہیں۔تو جو رہ گئی ہیں، ان کو اپنی فکر کرنی چاہئے اور ہمیں ان کی بہت فکر کرنی چاہئے۔کل میں اس آج کی تقریر کے متعلق سوچ رہا تھا کہ کس مضمون پر میں کچھ کہوں تو ایک بہت وسیع مضمون اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا۔اتنا وسیع کہ مجھے بڑی کوشش کر کے سمیٹنا پڑا۔اور بنیادی چار باتیں میں نے اس مضمون میں سے اٹھائی ہیں اور وہ مضمون تھا تَخَلَّقُوا بِاخْلَاقِ الله اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی زندگی میں پیدا کرو۔یہ بہت بڑا مضمون ہے۔بنیادی طور پر خدا تعالیٰ کی صفات دو پہلو رکھتی ہیں۔ایک تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا کہ وہ السُّبُوحُ ہے۔عربی میں اس کا تلفظ دونوں طرح ہے ”س“ کی زبر کے ساتھ بھی اور پیش کے ساتھ بھی۔اور الْقُدُّوسُ ہے۔لغت میں ہے کہ اَلسُّبُوحُ اور الْقُدُّوسُ ساری عربی زبان اس شکل میں صرف دو لفظ اپنے اندر رکھتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے بار بار توجہ ہمیں دلائی کہ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ