سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 457
457 سبیل الرشاد جلد دوم تفاوت اور فتور نظر نہیں آئے گا۔عربی زبان میں تَفَاوَتَ الشَّيْئَان کے معنی یہ کئے گئے ہیں اِخْتَلَفَا وَ تَبَاعَدَا مَا بَيْنَهُمَا کہ آپس میں ان کا اختلاف ہو۔اسی کو ہم تضاد کہتے ہیں نا۔اور ان کے درمیان بعد پایا جائے۔مفردات راغب نے کہا ہے اس کے معنی ہیں۔لَيْسَ فِيْهَا مَا يَخْرُجُ عَنْ مُقْتَضَى الحِكْمَةِ کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے جو کائنات پر ظاہر ہوئے اور جس سے ہر چیز پیدا ہوئی اس نے ساری کائنات کو اس طرح باندھ دیا کہ کسی پہلو سے بھی جو حکمت کا تقاضا تھا، جو خدا تعالیٰ چاہتا تھا اس سے ادھر اُدھر نہیں ہوئی کوئی چیز۔یہ ایک مکمل LOGICAL WHOLE ہے۔اتنی بڑی کائنات اتنی چیزیں ہیں اس میں اتنی اشیاء ہیں ، اتنے فرد ہیں کہ ہمارے تصور سے بھی بالا ہیں۔یعنی ہم اس کو سوچ بھی نہیں سکتے اس وسعت کو وسعت تعداد کو۔اور ہر چیز ایک دوسرے سے بندھی ہوئی ہے۔مثلاً ایک جہت جس میں وہ بندھی ہوئی ہے یہ ہے کہ ہر چیز خدا تعالیٰ کی پاکیزگی کو بیان کر رہی ہے اور ہر چیز اس کے محامد کو بیان کر رہی ہے۔اور دوسرے اس جہت سے کہ اس کائنات کی ساری چیزیں مل کے اس میں ، کوئی ان میں کوئی تفاوت اور تقضاد نہیں ، انسان کی خدمت پر لگی ہوئی ہیں۔کوئی ایک چیز ایسی نہیں سارے عالمین میں ، اس یونیورس UNIVERSE میں ، اس کائنات میں کہ جو انسانی خدمت کرنے سے انکار کرے۔ہر لحاظ سے تضا د سے پاک اور اختلال اور وھن ، کمزوری سے پاک۔یعنی نہ اس میں کوئی فساد ہے اور نہ کوئی کمزوری۔یہ جو تضاد نہیں بلکہ ہر چیز ایک دوسرے کی جو حکمت ہے پیدائش کی، اس کے ساتھ تعاون کرنے والی ہے، اس سے نکلی آگے ایک اور چیز نکلی کہ اس ساری کائنات میں ” میزان “ اور ” توازن پایا جاتا ہے۔یہ بڑا عجیب اصول ہے قرآن کریم میں وَضَعَ الْمِیزَانَ یعنی ساری کائنات میں تضاد نہیں، میزان ہے اور جو ریسرچ اب ہو رہی ہے نئی سے نئی وہ اس حقیقت کا ملہ کو جو قرآن کریم نے بیان کی ہے اسے سچا ثابت کر رہی ہے۔توازن کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں عالمین میں کامل نسبتیں قائم ہیں۔مثلاً متوازن غذا ہم کہتے ہیں۔بڑا چھوٹا سا ایک پہلو میزان کا۔متوازن غذا وہ ہے جو ایک فرد زید کی غذائی ضروریات میں BALANCE پیدا کرتا ہے کہ اتنی پروٹین (PROTEIN) اتنے CARBOHYDRATESاتنی MINERALS اس قسم کی جتنی چیزیں ہیں ان کو۔پھر اب تو یہ اس حد تک آگے ریسرچ میں چلے گئے ہیں کہ جو پروٹین ہیں ان کے منبعے مختلف ہیں۔گائے کا گوشت ہے ، بکری اور بھیڑ کا گوشت ہے، مچھلی کا سورة الرحمن آیت ۸