سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 442 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 442

سبیل الرشاد جلد دوم 442 گزرے ہیں اللہ تعالیٰ اُن پر بڑی رحمتیں نازل کرے۔اُن کا مشن ساری دُنیا کی طرف نہیں تھا۔یعنی اُن میں سے کسی نے یہ کوشش نہیں کی اور تاریخ اس پر گواہ ہے کہ افریقہ میں جا کے اسلام میں جو بدعتیں پیدا ہو گئیں اُن کو دور کریں یا یورپ میں جا کر وہ تبلیغ کریں۔داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ بڑے بزرگ مدفون ہیں لاہور میں ، انہوں نے اپنے اس علاقے کو سنبھالا اور ہزار ہا غیر مسلموں کو اُن کی برکات اور فیوض سے جو اُنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی تھیں یہ توفیق ملی کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔تو جو کیفیت انبیائے بنی اسرائیل کی تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد، وہی کیفیت تھی صلحاء امت کی مگر وہ نبی نہیں تھے لیکن اللہ کا مکالمہ مخاطبہ ہوتا تھا اُن سے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض رُوحانی سے حصہ لینے والے۔عاشق خدا کے بھی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی اور دینِ اسلام کے بھی اور قرآن کریم کے بھی۔وہ انبیائے بنی اسرائیل کی طرح اپنے اپنے خطہ میں دینِ اسلام کی خدمت میں لگے ہوئے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات جو ہے وہ بڑی عظیم ہے اور ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس عظیم ہستی سے جو تعارف کرایا ہے ، اُس کے نتیجہ میں ہمارے سینے اور ہماری رُوح محمدؐ کے عشق سے معمور ہو گئی ہے۔ہمیں کہا گیا ہے۔لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِہ جہاں تک رسالت اور تبلیغ رسالت کا تعلق ہے سارے رسول برابر تھے یعنی جو خدا نے اُن کو آگے پہنچانے کا کہا وہ آگے پہنچایا اُنہوں نے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل شریعت لانے والے نبی جن کی طرف شریعت آئی ، جو اُن کا فرض تھا۔وہ انہوں نے ادا کیا احسن رنگ میں۔اپنی اپنی امت تک خدا کی وحی کو پہنچایا۔اور اُن کے بعد آنے والے امت موسویہ میں انبیاء جو تھے ، انہوں نے حضرت موسیٰ کی شریعت کو دوسروں تک پہنچایا۔سوائے اس کے کہ کسی جگہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے بعض احکام شریعتِ موسویہ کو بدلا ہو۔مثلاً جس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی اُس وقت انسانی دماغ ابھی اپنے عروج کو نہیں پہنچا تھا۔اس واسطے اُن کو قرآن عظیم کا ایک حصہ دیا گیا تھا۔ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔انسان کے ہاتھ میں ایک کامل کتاب دے دی گئی قرآن عظیم کی شکل میں۔اس لمبے زمانہ میں زمانے کے بدلنے کے ساتھ یہودیوں کی ، بنی اسرائیل کی اخلاقی اور روحانی ضرورتیں بدلتی گئیں اور موسوی شریعت میں کسی نبی نے کسی جگہ ترمیم کر دی۔خدا کے حکم سے کسی نے کسی جگہ۔حضرت عیسی علیہ السلام نے سوره بقره آیت ۲۸۶