سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 443
سبیل الرشاد جلد دوم 443 اس حکم میں ترمیم کی کہ انتقام ضرور لینا ہے۔جو تیرے تھپڑ مارتا ہے ، چپیڑ مارواس کو۔بڑا زور دیا ہے اس پر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت۔خدا تعالیٰ نے یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ ان کی اخلاقی اور روحانی حالت گر گئی تھی۔وہ بُزدل بن گئے تھے اور مومن بزدل نہیں ہوا کرتا۔یہ یا درکھیں کہ مومن بزدل نہیں ہوا کرتا اور بنی اسرائیل بزدل بن گئے تھے۔اس واسطے ان کی بزدلی کا علاج ہونا چاہئیے تھا۔ان کو حکم دیا گیا تھا انتقام لینے کا۔لیکن اُنہی کی شریعت کی پیروی کرنے والے حضرت عیسی علیہ السلام جب آئے تو وہ لوگ دوسری انتہا ء تک پہنچ چکے تھے۔بزدلی سے تو نجات حاصل کر لی تھی۔لیکن ظلم کے پھندے میں پھنس گئے تھے۔اس واسطے حضرت عیسی علیہ السلام نے اُن کو یہ کہا۔موسیٰ کی شریعت کے پابند ہی تھے۔لیکن اُن کو یہ کہا کہ اگر تیری ایک گال پہ کوئی تھپڑ مارتا ہے تو دوسری بھی آگے کر دے اور پس وہ تھے تو شریعت موسویہ کے پابند تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ۔اس سے ہم نے یہ نتیجہ نکالا کہ ان انبیاء کو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کامل اتباع کے نتیجہ میں نہیں ملی۔کیونکہ کامل اتباع انہوں نے نہیں کی مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام نے نہیں کی۔ایک حکم تو بڑا واضح ہے نا ہمارے سامنے جس میں تبدیلی کی۔اسی طرح دوسرے انبیاء کا حال تھا۔جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں تو وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلے، یعنی کوئی مقابلہ ہی نہیں۔کہتے ہیں ایک لاکھ بیس ہزار یا چوبیس ہزار انبیاء آئے۔ان ایک کے علاوہ جتنے انبیاء تھے رسالت کے لحاظ سے۔لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِم ہم اُن پر درود بھیجتے ہیں۔ہمارے دل میں اُن کی قدر ہے۔خدا کا پیار حاصل کیا انہوں نے۔ہمارے دل میں بھی خدا تعالیٰ نے اُن کا پیار پیدا کیا۔لیکن جتنے بھی ہزاروں کی تعداد میں بنی اسرائیل میں نبی پیدا ہوئے۔انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے روحانی فیوض کے نتیجہ میں اور اُن کی کامل اتباع کی وجہ سے نبوت حاصل نہیں کی۔لیکن یہ ایک شخص ہے۔یکتا ویگا نہ صلی اللہ علیہ وسلم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا کہ نبوت کا مقام تو علیحدہ رہا۔کوئی روحانی درجہ خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو کوئی شخص حاصل نہیں کر سکتا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ہر روحانی درجہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں حاصل کیا جائے گا۔یہ میں آپ کو اپنا عقیدہ بتا رہا ہوں۔جماعت احمدیہ کا۔اچھی طرح یا درکھیں۔اس لئے ہم یہ بات ماننے پر مجبور ہیں کہ اگر نبی کے یہ معنے ہیں جو ایک لاکھ نہیں یا چوبیس ہزار انبیاء کی زندگی میں ہمیں نظر آئے کہ نبی متبوع سے اُنہوں نے نبوت حاصل کرنے کے لئے یا