سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 441 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 441

سبیل الرشاد جلد دوم 441 سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ للہ تعالیٰ کا افتتاحی خطاب (فرموده ۳۰ را خاء۱۳۵۶۰ بهش ۳۰ راکتو برا ۱۹۸ء بمقام بیت اقصی ربوہ ) سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ ۳۰ راخاء۱۳۶۰ش ( ۳۰ راکتو بر ۱۹۸۱ء) چار بجے شام بیت اقصیٰ ربوہ میں مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے ۲۴ ویں سالانہ اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے جو خطاب فرمایا تھا ، اُس کا پورا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: دین اسلام ایک تعلیم بھی ہے اور ایک ہدایت بھی اور ایک لائحہ عمل انسانی زندگی کے لئے بھی ہے۔اور ایک عشق کا جذ بہ اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ہے۔ہم جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ہمارے سامنے جماعت احمدیہ کے عقائد جنہیں ہم اسلام کی تعلیم اور ہدایت سمجھتے ہیں ، وہ آتے رہنے چاہئیں۔یہ ہدایت قرآن کریم میں ہے۔اس قرآن کی تفسیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوشکلوں میں کی ہے۔ایک اپنے ارشادات میں اور ایک اپنے عمل سے۔ایک لمبا زمانہ گزرنے کے بعد بہت سی بدعات دین اسلام میں داخل ہوگئیں ایک علاقے کی بدعتیں ہیں اور ایک بین الاقوامی بدعتیں ہیں۔علاقے علاقے کی بدعتوں کے دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُن پیار کرنے والوں کو بھیجا جن کے متعلق کہا گیا تھا : " عُلَمَاءُ أُمَّتِی كَانُبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ“ اس ارشاد نبوی کے بہت سے معانی ہیں۔ایک معنی اس کے یہ بھی ہیں۔جس کی طرف ہمیں توجہ دلائی گئی کہ جس طرح بنی اسرائیل کے انبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح امتِ موسویہ کی طرف بحیثیت امت موسویہ نہیں آتے تھے بلکہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ بعض دفعہ سینکڑوں ہوتے تھے وہ سارے کے سارے امتِ موسویہ کو تو مخاطب نہیں کرتے تھے۔اُن کے دائرے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیئے تھے۔وہ اپنے اپنے دائرہ میں بنی اسرائیل کی اصلاح میں کوشاں رہتے تھے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے حقیقی تو حید پر قائم رہنے والے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ، اپنے اپنے دائرہ استعداد میں، کرنے والے اپنے اپنے خطہ میں اسلام کی خدمت کر رہے تھے مثلاً ہندوستان میں جو ہمارے بزرگ