سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 437
سبیل الرشاد جلد دوم 437 کروالیں۔یہاں سے کروالیں۔(صحت جسمانی کے ذکر پر فرمایا ) اصل میں جو صحت ہے اس کا تعلق کھانے کے ساتھ ہے۔اور اچھا کھانا جو ہے اس کا تعلق میزان کے ساتھ ہے۔یعنی ایک Balance قرآن کریم نے جو محاورہ چودہ سو سال پہلے بتایا تھا وہ اب انہوں نے عام کر دیا ہے یعنی Balanced Food متوازن غذا۔متوازن غذا کا مطلب ہے کہ جن بہت سارے اجزاء سے مل کے کھانا بنتا ہے ان میں ایک توازن پیدا ہونا چاہئے تا کہ جن بہت سے کیمیاوی اجزاء سے ہمارا جسم بنا ہے ان سارے اجزاء کی Feeding ہوتی چلی جائے ورنہ وہ بنیا بیٹھا ہوتا تھا ہمیں نظر نہیں آتا لیکن بیٹھا ہوتا ہے۔بیٹھا اب بھی اسی طرح ہوگا۔مثلاً مٹھائی بیچ رہا ہے۔ہر پانچ دس منٹ کے بعد ایک لڈواٹھا کے کھالیا۔اس کا پیٹ آگے نکلا ہوا ہوتا ہے۔لیکن صحت کچھ نہیں۔تو یہ جو Balanced غذا ہے۔یہ آپ کے اعصاب کے لئے مفید ہے۔آپ کے Muscles کے لئے مفید ہے۔آپ کی ہڈیوں کے لئے مفید ہے۔آپ کے بالوں کے لئے مفید ہے۔آپ کے دانتوں کے لئے مفید ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں ڈاکٹر ، جس کو علم ہونا چاہئے تھا نیوٹریشن (Nutrition) کے متعلق ، اس کو پتہ کچھ نہیں۔ایک آدھ ہو گا کوئی لیکن جب میں کہتا ہوں کہ پتہ کوئی نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے ادارے یہاں نہیں ہیں کہ آٹھ کروڑ کی ساری قوم کو بتانے والے ہوں کہ کیا کیا کھایا کرو۔امریکہ میں گند بھی بڑا کھاتے ہیں یہ صحیح ہے اُن کی مصیبت اور بڑھ گئی لیکن بہت سارے رسالے جو مجموعی طور پر اُن کی آبادی سے ہر ہفتے تین چار گنا زیادہ تعداد میں چھپتے ہیں۔ان میں یہ متوازن غذا کے متعلق بحث ہوتی ہے۔نئی Discoveries کا ذکر ہوتا ہے یہ بھی آنا چاہئے غذا میں ، یہ بھی آنا چاہئے۔خالی ایک کھانا کافی نہیں۔کھانا ہضم ہونا چاہئے۔وہاں آپ کی ورزش آتی ہے یعنی اتنا کھائیں کہ ہضم ہو جائے۔اتنا نہ کھائیں جو غنودگی پیدا کرے اور آپ سو جائیں اور آپ کو نماز بھی چھوڑنی پڑے۔اور قرآن کریم کا وہ فتویٰ آپ کے اوپر لگ جائے کہ ”شکاری“ ہونے کی حالت میں نماز نہ پڑھو۔یعنی مستی چڑھی ہوئی ہے ، معدہ بہت زیادہ بھر گیا اس کے نتیجہ میں (اس قسم کے نہیں ) چاق و چو بند دماغ اور کھائیں۔میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میرے جتنا کھائیں کیونکہ یہ آپ کے لئے اجتماعی طور پر ممکن ہی نہیں۔میرے بہت سارے بھائی ہوں گے۔جو اتنا کھاتے ہوں گے یا اس سے بھی کم کھاتے ہوں گے۔لیکن اصول یہ ہے کہ جتنا ہضم ہو جائے اتنا کھاؤ۔یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب بھوک ہو اُس وقت کھاؤ۔یہاں سے شروع کرتے ہیں۔بھوک کب ہوگی جب پہلا کھانا ہضم ہو گیا۔تبھی بھوک لگے گی نا۔تو اس میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ ہضم کی طرف بھی توجہ دو۔جب بھوک ہو تو کھاؤ۔