سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 438
سبیل الرشاد جلد دوم 438 ابھی بھوک ہو تو چھوڑ دو۔زیادہ بوجھ نہ ڈالو۔خدا نے ایک سبق سکھا دیا ہے کہ میں نے اپنی تعلیم میں تم پر بوجھ نہیں ڈالا۔تم کسی پر جو تمہارے ماتحت ہیں اُتنا بوجھ نہ ڈالو جوان کی طاقت سے باہر ہو۔نہ مزدور پر ڈالو نہ معدے پر ڈالو۔وہ بھی تو آپ کا مزدور ہے۔ہر میدان میں ان قوموں نے بڑی ترقی کی مثلاً جہاں مسلمان کو کرنی چاہئے تھی۔ایک زمانہ میں کی بھی تھی اب دوسروں نے اُن میدانوں پر قبضہ کر لیا۔اب ہم احمدیوں نے اُن سے یہ میدان چھینتے ہیں۔پتہ ہے؟ یہ تم انصار کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کے ذہن میں یہ بات ڈالو کہ جو ہماری دولت تھی ، متاع تھی اسلام کی وہ غیروں کے ہاتھ میں جا پڑی۔وہ ہم نے ان سے چھینی ہے۔اب گوشت گوشت میں فرق ہے۔کراچی میں کھانے والا گوشت ہی نہیں ملتا۔تو قرآن کریم میں مثلاً آ گیا لَحْمًا طَرِيًّا۔ایک یہ اصول کھانے کا۔دوسرے آ گیا مِمَّا يَشْتَهُونَ۔جس کو اشتہاء پیدا ہوا اسے کھانے کو ملنا چاہئے اور یہاں تو نفرت پیدا ہوتی ہے پھیپھڑے اور عجیب وغریب ہڈیوں کی شکلیں ہوتی ہیں۔پاکستان میں دراصل گوشت کھایا ہی نہیں جاتا۔ہڈیوں کا جتنا سوپ بن سکتا تھا اس کا سواں حصہ بنا کے سمجھتے ہیں ہم گوشت کا شور بہ کھا رہے ہیں۔شوربے میں ہڈی کا رس پورا نہیں آیا ہوتا۔کیونکہ پکانے کا طریق درست نہیں ہے۔اور جب طاقت نہیں ہوگی تو وہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے تھے جنہوں نے کہا کہ خدایا خواہش تو بڑی ہے مگر جسم ساتھ نہیں دے رہا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ایسے نہیں کہ خواہش تو ہے مگر جسم ساتھ نہیں دے رہا۔پہلے زمانہ میں وہ جو بن گئے ویسا بننا ہے ہم نے۔اب میں بتاتا ہوں۔جسمانی طاقت کے لحاظ سے کیسے بنا ہے۔خدا کے لئے انہوں نے اپنے جسموں کو مضبوط بنایا اور محنت برداشت کرنے کی طاقت پیدا کی۔مثلاً سب سے پہلے دنیا کی دو میں سے ایک بہت بڑی طاقت کسری کی تھی جس نے مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کی اُن سے لڑنا پڑا۔لڑائی کی کیفیت کیا تھی ؟ اگر میں آپ میں سے کسی کو بات سمجھانے سے پہلے مثال دوں کہ خدام الاحمدیہ میں سے کسی کو ایک چھ فٹ کی سوٹی دوں اور کہوں کہ اس کو اس طرح ہلاتا چلا جا۔آدھے گھنٹے کے بعد تھک جائے گا۔بہت ہی بہادر ہوا تو ۴۵ منٹ کے بعد تھک جائے گا۔ہاتھ میں سوئی ہے یا تلوار ہے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جو جسم کے اوپر اس کا بوجھ پڑ رہا ہے وہ تو اس کی حرکت کے نتیجہ میں ہے نا۔اچھا اب یہ میری بات ختم ہو گئی ہے۔اب میں وہاں سے شروع کرتا ہوں۔مسلمان فوجوں نے جن کی تعداد صرف ۱۸ ہزار تھی۔۴ ہزار گھوڑ سوار اور ۱۴ ہزار پیادہ ، انفنٹری اور انہوں نے جو وہاں حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں جنگیں لڑیں وہ ۴۔۵ جنگیں ہیں۔بعد میں بھی یہی حال رہا کچھ تھوڑے سے فرق کے ساتھ لیکن میں انہی کو لیتا ہوں۔ان کے مقابلہ میں کسری کی فوج