سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 436
سبیل الرشاد جلد دوم 436 میں بتا چکا ہوں کہ قرآن سے باہر کوئی چیز نہیں۔یہ بڑی عظیم کتاب ہے۔قرآن عظیم جس کو ہم کہتے ہیں واقع میں عظیم ہے۔تو یہ کہتے ہیں آپ پڑھتے نہیں۔اب یا ان سے کشتی کر لیں یا میری تسلی کروا دیں۔قرآن پر غور کریں قرآن کریم ایک تو روز پڑھنا چاہئے تفسیر صغیر سے ، سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جس کو ویسے ترجمہ نہیں آ تا اگر وہ متن پڑھ رہا ہو تو پتہ نہیں لگے گا اگر وہ ایک رکوع دس منٹ میں پڑھے، تین منٹ میں نہ پڑھے اور ترجمہ پر غور کرے یہ کیا ہے۔کیا باتیں اس میں لکھی ہیں۔تو نئی سے نئی باتیں آپ کو ملنی شروع ہو جائیں گی۔کوئی ایک آیت قرآنی ایسی نہیں جس کے معانی چودہ سو سال میں ختم ہو چکے ہوں، قیامت تک نکلتے آئیں گے۔چھپے ہوئے بطون اس کے اندر اس طرح رکھے ہیں۔لیکن اُس کے لئے دُعا اور پاکیزگی کی ضرورت ہے۔ایک آدمی پاکیزہ راہوں کو اپنی طرف سے کوشش کر کے معلوم کرے اور پھر اُن پر چلنے کی کوشش کرے۔اور دوسرے دُعا کرے۔کیونکہ دُعا کے بغیر تو کچھ ملتا نہیں۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ بڑا عجیب اعلان ہے۔یہ نہیں کہ دعا کرو۔دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کرلوں گا۔یہ پورے معنے نہیں دے رہا۔کہا ہے مانگو مجھ سے میں تم کو دوں گا۔کیوں نہیں مانگتے آپ؟ اپنے لئے مانگیں۔بچوں کے لئے مانگیں۔اس دنیا کے لئے مانگیں۔دُنیا تو ہلاکت کی طرف جا رہی ہے۔جانتی ہے۔۔اب جاننے لگ گئی ہے۔کہتے ہیں کچھ کر یں۔ایک صحافیہ کی آنسوؤں کی لڑی ۱۹۷۸ء سٹاک ہوم سویڈن کے دورے میں ایک پریس کانفرس میں میں نے قرآن کریم کی تھوڑی سی باتیں بتا ئیں ایک گھنٹے میں تو قرآن نہیں ختم ہوتا۔۔وہ میرے سامنے جذباتی ہوتی گئی جب با ہر نکلی تو میرے ایک ساتھی کو کہنے لگی، اور اس کی آنکھوں کے آنسوؤں کی دھار بہہ رہی تھی۔کہنے لگی آپ اتنی دیر بعد کیوں آئے ہیں۔یہ بتاؤ مجھے ؟ مطلب یہ تھا کہ ہم گندگی میں دھنستے چلے گئے اور تم لوگوں نے ہمارا خیال نہیں رکھا۔اور یہاں کہتے ہیں قرآن ہمیں کافی نہیں۔کہیں اور سے بھی ہمیں کچھ ڈھونڈ نا چاہئے۔نیکی کی بات اور فلاح کی بات جس سے دین اور دنیا میں کامیابی ملتی ہے اور نور کی بات اور حسن کی بات اور شفاء کی بات یہ تو قرآن کے علاوہ کہیں اور سے نہیں ملتی۔متوازن غذا ربوہ سائیکل پر جانے کی بات ہوئی تو فرمایا مگر وہ اپنا فزیکل Physical Fitness کا ٹیسٹ