سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 407 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 407

407 سبیل الرشاد جلد دوم ہیں۔اچھے لوگ بھی ہیں۔بُرے لوگ بھی ہیں۔نہایت شریف لوگوں کا وہ علاقہ ہے اور تین منزلہ وہ مکان ہے اور بڑا اچھا بنا ہوا۔البتہ مرمت طلب تھا۔پرانا مکان تھا۔قریبا تمیں پینتیس لاکھ کی اس کے لئے ضرورت پڑی تھی۔پچھلے سال خریدا گیا تھا اور اس سال میں نے اس کا افتتاح کیا ہے۔اور انگلستان، ناروے، سویڈن، ڈنمارک ، جرمنی اور سوئٹزر لینڈ ان ملکوں میں اتنا پیسہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہم اس کی قیمت ادا کر دیں گے۔اور وہاں کے میئر (Mayor) مجھے کہنے لگے۔آپ نے بڑا خرچ کر دیا۔میں نے کہا خرچ تو بڑا نہیں کیونکہ ہماری ضرورت کے مطابق ہے۔کئی سو احمدی تھا۔ان کے بچوں کی تربیت نہیں ہو رہی تھی۔نمازیں اکٹھے پڑھنے کا انتظام نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ کے انعامات جو بارش کی طرح برستے ہیں ان تک وہ انعامات پہنچتے نہیں تھے۔ان باتوں سے تقویت ایمان ہوتی ہے۔کوئی جگہ ہی نہیں تھی آپس میں مل بیٹھنے کی۔یہاں بھی آپ مساجد بنایا کریں کیونکہ جو گھروں میں پڑھتے ہیں نماز باجماعت بعض جب چھوٹی سی رنجش ہو جائے آپس میں تو ایک دوسرے کے گھر نماز پڑھنے کے لئے بھی نہیں آتے۔بڑی بُری بات ہے۔لیکن میں کہتا ہوں چھوٹی چھوٹی باتوں میں رنجش تو ہو ہی جاتی ہے انسان کی۔پھر بعد میں تو بہ کر لیتا ہے۔کیوں نہیں تم خدا کا گھر بناتے جس پر کسی انسان کا کوئی حق نہیں اللہ کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ نے کہا ہے ہرموحد جو خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنا چاہتا ہے اس کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں چاہے وہ موحد ، موحدین کے فرقے جو ہیں عیسائیت میں اس سے تعلق رکھتا ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔انسان کا حق ہی نہیں کہ وہ دروازے بند کرے خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کے لئے۔مساجد میں ایک اور پس منظر تو وہ نہیں لیکن چھوٹا سا ٹکڑا ہے ایک واقعہ کا۔نائیجیریا میں ایک جگہ ہے الا رو (Ilaro) اور اس کا فاصلہ ہے لیگوس دارالخلافہ سے قریباً اتنی میل اور اس کی آبادی ہے کم و بیش تمیں پینتیس ہزار اور جماعت احمد یہ ہزاروں کی تعداد میں ہے وہاں۔بڑی فعال جماعت۔نڈر جماعت اور انہوں نے اپنے خرچ سے ایک وین (Van) لی ہے۔اس کے اوپر لکھا ہوا ہے' جماعت احمدیہ کی تبلیغی کار اور چار پانچ انہوں نے لئے ہوئے ہیں سکوٹر اور وہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔تفصیل میں بعد میں بتاؤں گا۔انہوں نے چار مسجد میں پہلے بنائی ہوئی تھیں مرکز سے ایک دھیلا مانگے بغیر اور اب ایک جامع مسجد بنائی پانچویں اور خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اور جماعت کو کہا کہ حضرت صاحب آ رہے ہیں۔حضرت صاحب ہم چاہتے ہیں ، افتتاح کریں۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔ہم وہاں گئے تو کئی ہزار ہوں گے۔احمدی مردوزن اور بچے اور بے شمار دوسرے لوگ آئے ہوئے۔اور بڑا ان کا اثر اور رسوخ ہے۔جماعت کا بھی یعنی اُس اِلا رو (llaro) کے احمدیوں کا بھی اور ویسے جماعت احمدیہ کا بڑا اثر بڑھ گیا ہے۔