سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 408 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 408

408 سبیل الرشاد جلد دوم اور وہاں ہم نے جمعہ پڑھا اور بڑی خوشی ہوئی ان سے مل کے۔بات جو میں اس وقت مختصراً بتا نا چاہتا ہوں کہ افریقہ میں سینکڑوں مساجد احمد یہ جماعت بنا چکی ہے اور ایک دھیلا بھی انہوں نے مرکز سے نہیں لیا مسجد کے لئے اور ان کے دماغ میں یہ بات ہے کہ خدا کے گھر کے لئے مانگنا نہیں ، بناؤ۔بعض دفعہ چھ چھ مہینے بناتے رہتے ہیں یعنی اگر زیادہ امیر نہیں اور مسجد بنانا چاہتے ہیں تو ہر مہینے پیسہ کچھ دے کے بنیادیں بنا دیں گے۔پھر کھڑ کیوں تک وہ اٹھا دیں گے دیوار میں پھر اور لے جائیں گے۔پھر چھ مہینے آٹھ مہینے کے بعد وہ مسجد تیار ہو جائے گی۔پھر اندر کا وہ کام کرتے رہیں گے۔نہ ادھر دیکھیں گے نہ اُدھر دیکھیں گے صرف آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ان کی نقل کریں۔بنا ئیں یہاں مساجد اور مرکز سے ایک دھیلا نہ مانگیں۔اس بات میں آپ کا ان کا مقابلہ کروا دیا آج میں نے۔وہ آیا کرتے ہیں جلسے پر۔وہ آپ سے پوچھیں گے ان کو میں کہہ دوں گا کہ جب آپ سے ملیں تو پتہ کریں کہ آپ نے کتنی مساجد بنائیں۔وہ آپ کو بتا ئیں گے کہ انہوں نے کتنی مساجد بنا ئیں۔یہ جو حالات دیکھے اصولی طور پر اس سے ہمیں یہ تاثر ملا کہ جماعت کو ایثار پیشہ، ذہین مبلغین کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ذہن دیا ہے اور ایثار بھی دیا ہے۔اخلاص بھی دیا ہے لیکن ایثار اور اخلاص کے بعض پہلو پوری طرح ابھی چمکے نہیں۔پالش نہیں ہوئی انہیں۔پالش کریں ان کو۔بچے دیں جامعہ کے لئے لیکن ذہین بچے۔ایک وقت میں جس شخص کا بچہ بالکل جاہل ، خر دماغ ہوتا تھا اور میٹرک میں دو نمبر لے کے وہ پاس ہو جاتا تھا وہ خدا تعالیٰ پر احسان جتانے کے لئے آ کے جامعہ میں داخل کر دیتا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی چھوڑ کے چلے گئے۔بڑی بدمزگیاں ہو گئیں۔اب میں نے یہ قانون بنایا ہے کہ اصل تو مجھے چاہئیں فرسٹ ڈویژن کے بچے لیکن سیکنڈ ڈویژن والوں کو ایک حد تک برداشت کر لیں گے، تھرڈ ڈویژن والوں کو نہیں لیں گے۔اب اس سال بھی میں آیا ہوں تو میرے سامنے ایک فہرست میں تین بچے تھر ڈ ڈویژن والے پیش کر دیئے گئے کہ بچے تھوڑے ہیں اس لئے تھرڈ ڈویژن والوں کو بھی داخل کرنے کی اجازت دے دیں۔میں نے اوپر تو نہیں لکھا اس کاغذ کے لیکن میرے ذہن میں یہ آیا کہ اگر ایک بھی نہ آتا اور یہ تین آتے تو میں کلاس جاری نہ کرتا۔ان تین بچوں کو میں نے نہیں لینا۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے فائدے کے لئے یہ حکم دیا کہ جس رکابی میں بال آیا ہو باریک تریر جو انگلی اگر پھیریں تو انگلی محسوس بھی نہیں کرے گی۔اس میں کھانا نہ کھاؤ۔کیونکہ وہاں بیکٹریا پرورش پاتا ہے اور انسان کو انفیکشن (Infection) کی بیماری ہو جائے گی۔خدا کے جس رسول نے آپ کا اتنا خیال رکھا آپ اپنا ٹوٹا ہوا بیٹا اس کے حضور پیش کرنے کی کس طرح جرات کرتے ہیں۔تو اول تو