سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 398
398 سبیل الرشاد جلد دوم میں یہ حکم پنہاں ہے کہ جن علوم کو دنیوی علوم کہا جاتا ہے جن کا تعلق افلاک سے ہے، کیمیا سے ہے ،طبیعات سے ہے، کھانے پینے کی اشیاء سے ہے، زراعت سے ہے ، طب سے ہے۔وغیرہ وغیرہ۔اُن میں بھی خدا کی آیات نظر آتی ہیں۔اور انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔اور ان کا بھی ایک مسلمان کے لئے سیکھنا ضروری ہے۔اس لئے آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جماعت ، میری خواہش کا احترام کرتے ہوئے ، اپنی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اور دنیا پر احسان کرنے کی خاطر ، خدا اور رسول کی اطاعت میں دنیوی علوم بھی روحانی نور کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے سیکھنے کی کوشش کرے۔اور اس دس سال میں یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارا کوئی بچہ بھی میٹرک سے کم تعلیم کا نہ ہو۔اس کی ذمہ داری امرائے اضلاع پر ہے۔تنظیم انصار اللہ پر ہے۔تنظیم خدام الاحمدیہ پر ہے۔جماعت پر ہے۔پوری کوشش کریں کہ ہر احمدی بچہ کم از کم میٹرک تک پڑھ جائے ، دس سال کے اندراندر۔اور پھر وہ بچے جب دسویں پاس کریں اور یہ پتہ لگے ہمیں کہ بعض بڑے ذہین ہیں تو ان کے آگے پڑھانے کا جماعت ذمہ لے، وہ انتظام کرے تا کہ خدا تعالیٰ نے جو اتنا بڑا ہم پر احسان کیا کہ ہم غریبوں کے گھروں میں ذہین بچے پیدا کر دیئے اور ذہانت سے ہماری جھولیاں بھر دیں ، ہم ان سے بے اعتنائی کر کے ناشکرے نہ بننے والے ہوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے شکر گزار بندوں سے پیار کرتا اور وہ جوشکر نہیں کرتے اُس کا ، غصے کی نگاہ ان پر ڈالتا ہے۔پروگرام کا تیسرا حصہ یہ ہے کہ جماعت احمد یہ بحیثیت جماعت ، ( دین حق ) کے حسین اخلاق پر قائم ہوا اور اصلاح یافتہ معاشرہ اپنے ماحول میں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔معاشرہ کی بُرائیوں سے خود کو محفوظ رکھنا۔اور معاشرہ کو بُرائیوں سے بچانا آپ کی ذمہ داری ہے۔اور آپ کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ جو کوئی بھی معاشرہ کو بُرائیوں سے بچانے کی کوشش میں ہو اس کو آپ کا پورا تعاون حاصل ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اخلاق کو کامل کرنے کے لئے بھی مبعوث ہوا ہوں۔اس وقت چند موٹی باتیں میں آپ کو بتا دوں۔(۱) کوئی احمدی جھوٹ نہیں بولتا (۲) کسی احمدی کو گالی دینے کی عادت نہیں ہونی چاہئے خصوصاً دیہاتی جماعتیں اس طرف متوجہ ہوں (۳) ہر احمدی اپنی بات کا پکا ہو۔جو عہد کرے وہ پورا کرے۔جو بات کہے اس کے مطابق اس کا عمل ہو۔اور (۴) یہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے جو نجشیں پیدا ہو جاتی ہیں ، جماعت کے اندر یا باہر اس قسم کی رنجش نہ پیدا ہونے دے (۵) کوئی احمدی اپنے احمدی بھائی سے، نہ دوسرے بھائیوں سے لڑائی جھگڑا نہیں کرے گا۔(۶) اگر احمدیوں میں باہمی کوئی