سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 368
سبیل الرشاد جلد دوم 368 والے کمرے، ڈرائنگ روم میں جانے میں جو کوفت محسوس کرتا ہے ، اُس سے بھی کم وہ اس دنیا کو چھوڑ کر اگلے جہان میں جانے میں محسوس کرتے تھے۔اُن کو یہ احساس تھا کہ یہ دُنیا تو ایک دارالا بتلا ء ہے۔اس سے نکل کر خدا تعالیٰ کے پیار کی جنتوں میں جا رہے ہیں۔چھلانگیں مارتے ہوئے اور قربانیوں پر قربانیاں دیتے چلے جاتے تھے۔یہ تو پھر خدا کی مرضی تھی جو ان کو کہتا تھا۔ابھی اس دنیا میں رہو ورنہ اُن کی خواہش یہی ہوتی تھی کہ وہ ہنستے مسکراتے خدا کی راہ میں قربان ہو جائیں۔پس یہی وہ رُوح ہے جس کے پیدا کرنے کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ملکی زندگی میں بہت سے صحابہ اور صحابیات کو بڑے دکھ دیئے گئے خصوصاً جو لوگ غلام تھے اور مسلمان ہو گئے تھے اُن پر بہت زیادہ مظالم ڈھائے گئے۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو نگا کر کے تپتے ہوئے ریتلے میدان میں لٹا دیا جاتا اور اُن کے سینے پر گرم پتھر رکھ کر اُن سے اسلام کا انکار کرنے کو کہا جاتا۔مگر اس انتہائی تکلیف اور دُکھ کی حالت میں بھی اُن کے حلق سے احد احد “ ہی نکلتا تھا۔پھر اُن کے گلے میں رسہ ڈال دیا جاتا اور شریر بچے اُن کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے تھے۔ہماری ایک بزرگ بہن صحابی تھیں۔ایک شخص نے اُن کی ران میں نیزہ مار کر اُن کو شہید کر دیا۔غرض صحابہ کرام نے خدا کی راہ میں ظلم وستم کا تختہ مشق بننا یہاں تک کہ جان دے دینا گوارا کر لیا۔لیکن انہوں نے اپنے رب کریم سے قطع تعلق نہیں کیا۔نہ وہ وو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان کو بھولے اور نہ انہوں نے آپ کے دامن کو چھوڑا۔غرض جو بات میں احباب جماعت سے اس وقت کہنا چاہتا ہوں۔وہ یہی ہے کہ وہ اپنے اندر صحابہ کرام کا نمونہ پیدا کریں۔غور سے دیکھیں تو اس میں صحابہ کا اپنا کوئی کمال نہ تھا۔یہ کمال تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔( غیر مطبوعہ )