سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 369
سبیل الرشاد جلد دوم 369 سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعلی کا انتقامی خطاب فرموده ۲۹/اخاء ۱۳۵۷اهش ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۸ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ ) سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع ۱۹۷۸ء کے موقع پر ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو جو بصیرت افروز اختتامی خطاب فرمایا۔ذیل میں اس کا مکمل متن درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں ہر جماعت کا کوئی نشان ہوتا ہے، کچھ علامات ہوتی ہیں ، کچھ مزاج ہوتا ہے، کچھ صفات ہوتی ہیں۔اس وقت میں جماعت احمدیہ کے مزاج اور جماعت احمد یہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو صفات پیدا کی ہیں۔ان کے متعلق پہلے کچھ مختصر بیان کروں گا۔جماعت کی پہلی نمایاں صفت یہ ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی عاجز اور منکسر المزاج جماعت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو عاجزانہ راہیں پسند ہیں۔اور جو چیز ہمارے محبوب خدا کو پسند ہے وہی ہمیں بھی پسند ہے۔اس لئے ہم احمدی عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے والے ہیں اور ہمارے دلوں میں کبھی تکبر اور فخر کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات میسر آتے ہیں اور وہ بے حد و شمار ہیں۔ہم علی وجہ البصیرت یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں ہمیں خدا کی طرف سے نہیں ملے بلکہ یہ محض اس کا فضل ہے کہ اس نے اپنے ان انعامات سے ہمیں نوازا ہے۔دوسری صفت یہ ہے کہ ساری دنیا سے پیار کرنا اور ان کے لئے محبت کے جذبات رکھنا جماعت احمدیہ کا شعار ہے اور یہ محض زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ ہمارے اعمال کا ہر پہلو اس بات پر شاہد ہے کہ ہم نوع انسانی سے پیار کرنے والے اور اس کی خیر خواہی کرنے والے ہیں اور دنیا کا کوئی انسان نہیں جس سے ہمیں دشمنی ہو۔دشمنی کسی سے نہیں اور پیار کا جذبہ اور خیر خواہی کا جذ بہ ہر ایک کے لئے ہے اور میں نے