سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 367 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 367

367 سبیل الرشاد جلد دوم جانے کی صورت میں اس کا انعام حاصل کرنا ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ کی ناشکری کی تو پھر معاملہ دوسرا ہے۔ویسے خدا تعالیٰ مالک ہے۔وہ جو چاہے اپنے بندوں سے سلوک کرے۔اولیكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ مِنْ رَّبِّهِمْ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بنتے ہیں۔صلوٰۃ کا لفظ جب خدا کی طرف منسوب ہو تو اس کے اور معنے ہوتے ہیں اور جب بندوں کی طرف منسوب ہو تو اور معنے ہوتے ہیں۔بندوں کے متعلق تو ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ درود پڑھیں یا دعا کریں لیکن اللہ تعالیٰ دُعا نہیں کرتا وہ تو دعا قبول کرنے والی ہستی ہے۔یعنی وہ خود دیالو ہے۔وہ مانگنے والی ہستی تو نہیں۔دعا کے تو معنے ہی مانگنے کے ہوتے ہیں۔پس جب یہ لفظ صلوۃ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس کا مطلب الہی رحمت ہوتا ہے۔فرمایا۔صَلَوتٌ مِنْ رَّبِّهِمْ۔ایسے صابر لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی ایک نہیں، دو نہیں، بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں گی اور پھر خدا تعالیٰ کے یہ انعام جو بندوں پر نازل ہوتے ہیں وہ تو بے شمار ہوتے ہیں۔ہم اُن کا احاطہ نہیں کر سکتے۔اس لئے ہم عام طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی برکتوں اور اس کے فضلوں ، خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں ، خدا تعالیٰ کے پیار اور اس کی محبت کو چند ایک الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں چونکہ رحمت کا لفظ ظاہری طور پر آ گیا ہے۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ صلوٰۃ کی رو سے صبر کرنے والوں کو خدا تعالیٰ کی رحمت بھی اور اس کے علاوہ دوسرے قسم کے جو فضل ہیں اور برکتیں ہیں اور نعمتیں ہیں وہ بھی اُن کو ملیں گی۔پھر فرمایا۔اُولبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے خدا تعالیٰ نے ہدایت کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔پس اگر چہ خدا کے مومن بندوں پر ابتلاء آتے ہیں لیکن اس کے نتیجہ میں اُن پر بہت بڑے انعام بھی نازل ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بڑے لطیف رنگ میں بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ سے یہ بڑا پیارا سلوک ہے کہ وہ اُسے امتحان میں ڈالتا ہے اور اس کے نتیجہ میں بے شمار روحانی اور جسمانی ترقیات کے دروازے اُس پر کھول دیئے جاتے ہیں۔الہی جماعتوں پر ابتلا ء اس لئے نہیں آتے کہ خدا تعالیٰ انہیں مٹانا چاہتا ہے۔یا انہیں کمزور کرنا چاہتا ہے۔بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اُن کو روحانی رفعتیں دینا چاہتا ہے۔اُن کے درجات کو بلند کرنا چاہتا ہے۔خدا تعالیٰ اپنی نعمتوں سے اُن کی جھولیاں بھرنا چاہتا ہے۔میں نے کئی دفعہ سوچا، صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا عجیب حالت تھی۔دشمن نے تلوار میان سے نکالی اور کہا سب کی گردنیں کاٹ دیں گے اور اسلام کو مٹا دیں گے۔لیکن صحابہ کرام کی ذہنی کیفیت اور ایمانی حالت کا یہ عالم تھا کہ آج کا ایک دولت مند شخص اپنے سونے والے کمرے سے نکل کر بیٹھنے