سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 365
365 سبیل الرشاد جلد دوم نے فرمایا اچھا تو ادھر دیکھو۔آپ نے اپنی قمیض اٹھائی۔دو پتھر باندھے ہوئے تھے۔لیکن اُس وقت بھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مسلمان بھی پتھر باندھے پھرتے تھے اور بھوک سے نڈھال تھے۔اس آزمائش کو بھی بشاشت کے ساتھ برداشت کر رہے تھے۔باپ بیٹے کے راز و نیاز کی طرح انہوں نے علیحدگی میں آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر کر دیا تھا کہ وہ پتھر باند ھے پھرتے ہیں لیکن کوئی واویلا تو نہیں کیا تھا۔چیخ و پکار تو نہیں کی تھی۔ہاں وہ خدا کے حضور جھکتے تھے اور اس سے مخلصی کی دعائیں کرتے تھے۔پھر جب ہجرت ہوئی تو ابھی چند سال نہیں گزرے تھے کہ مکہ میں قحط پڑ گیا اور وہاں سے مدینہ میں ایک وفد آ گیا اور اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔کیا آپ اپنے بھائیوں کو بھوکا ماریں گے؟ آپ نے فرمایا۔نہیں۔اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے مکہ میں بھی اور مدینے میں بھی آپ کو بھوک کے ابتلا میں ڈالا تھا ، اُن کے لئے فوراً کھانے کا انتظام کر دیا۔آپ نے لوگوں کو مسجد نبوی میں بلایا اور اُن سے فرمایا مکے کو راشن بھیجنا ہے۔اس کا انتظام کرو۔اس انتظام پر ایک دوروز لگے ہوں گے لیکن اُن کے لئے انتظام کرنے میں ایک منٹ کی بھی تا خیر نہیں کی اور یہ برداشت نہیں کیا کہ اہل مکہ بھو کے رہیں۔پھر فرمایا وَ نَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْاَنْفَس بعض دفعہ مال کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔لوگ مکان جلا دیتے ہیں۔ڈکا نہیں لوٹ لیتے ہیں۔۷۴ء میں ایک موقع پر ایک کارخانے سے دس لاکھ روپے کی مونجی جلا دی گئی۔میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لوگ اسے لے جاتے اور کھا لیتے تو مجھے خوشی ہوتی۔ہم یہ سمجھتے چلو کسی کے کام تو آئی۔مگر انہوں نے جلا کر راکھ کر دی۔بہر حال بھٹو صاحب کی اُس وقت یہ شان تھی۔اب اور شان ہے۔اسی طرح لوگ قتل کر دیتے ہیں۔بعض دفعہ اس قسم کے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں جن سے اولا د کا نقصان ہو جاتا ہے یہ بھی ایک آزمائش ہوتی ہے اور ہر آزمائش کے ساتھ ایک برکت بھی لگی ہوتی ہے۔ایک حصے کی میں بتا دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا نے کہا میں تمہارے ماننے والوں کے نفوس اور اموال میں برکت ڈالوں گا۔دشمن کہتا ہے میں بھوکا ماروں گا۔چنانچہ اُس وقت جو لوگ برسر اقتدار تھے وہ یہ کہتے ہوئے بھی سنے گئے تھے کہ ہم احمدیوں کے ہاتھ میں کشکول پکڑا ئیں گے۔خدا نے کہا احمدی کے ہاتھ میں تو کشکول نہیں آئے گا مگر تمہارے ہاتھ سے کبھی چھٹے گا نہیں۔پھر فرمایا۔وَالثَّمَراتِ محنت کے پھلوں میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ایک لڑکا ہے جو بہت ذہین ہے۔بہت اچھے نمبر لے کر فرسٹ آتا ہے۔اور قرآن کریم کہتا ہے :