سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 366
سبیل الرشاد جلد دوم 366 أَنْ تُؤَدُّوا الْاَ مُنتِ إِلَى أَهْلِهَا تم اہلیت کے مطابق Appointments ( تقرریاں ) کرتے وقت فیصلے کیا کرو۔لیکن اس کی ذہانت کے باوجود اُسے ملازمت نہیں ملتی۔یہ گویا ثمرات سے محرومی ہے یا بعض دفعہ لوگ کھیتیاں اُجاڑ دیتے ہیں یا فصلوں کو آگ لگا دیتے ہیں۔اس قسم کے نقصان پہنچانے کی حرکتیں بھی ہوتی ہیں۔یہ ویسے دونوں طرح سے ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ تو آزماتا ہے۔وہ کبھی انسانوں کے ہاتھ سے آزماتا ہے اور کبھی آفات سماویہ کے ذریعہ آزماتا ہے۔یہ مختلف قسم کی آزمائشیں ہیں جن کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے ، ان میں قریباً ہر قسم کی آزمائش آ جاتی ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کہتا ہے ایک چیز ظاہر کر کے بیان کی۔ایک چیز نتیجتا ہے کہ ماننے والے دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ایک وہ جو صبر نہیں کرتے اور کمزوری دکھا جاتے ہیں اور ایک وہ جو کمزوری نہیں دکھاتے۔جو لوگ کمزوری دکھا جاتے ہیں ان کو تو کچھ نہیں ملتا۔ان کو نہ دنیا ملتی ہے اور نہ دین ملتا ہے۔اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جو لوگ کمزوری دکھا جاتے ہیں اور ماشاء اللہ کوئی چھ مہینے کے بعد واپس آ جا تا ہے۔جب اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی ڈھارس بندھاتا ہے اور کہتا ہے تو کدھر پھر رہا ہے۔تو چل واپس کسی کو سال کے بعد یہ احساس ہو جاتا ہے۔کوئی ویسے ٹوٹ بھی جاتا ہے۔آخر ہرے بھرے درختوں کی بعض ٹہنیاں اور لکڑیاں بھی تو ٹوٹ جاتی ہیں۔قانونِ قدرت ایسا ہی چل رہا ہے۔لیکن جو لوگ صبر دکھاتے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے۔اے رسول تم ان کو بشارت دو۔ایک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کردہ بشارت جو دنیا کی ساری نعماء سے بڑی ہے۔دنیا داروں کی طرف سے وصول ہونے والی ساری نعمتوں سے بڑی ہے۔جس کی بشارت خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان کو دے رہے ہیں۔فرمایا بَشِّرِ الشبرين اور صابر کے معنے یہ کئے إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ جب اس قسم کے ابتلاء جن کا ابھی ذکر کیا ہے وہ مومنوں کو پہنچتے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ ہم خدا کی امانت ہیں۔ہماری ہر چیز خدا کی امانت ہے۔خدا ہمارا خالق و مالک ہے۔سب کچھ اسی کا ہے۔ہمارا تو کچھ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: گھر سے تو کچھ نہ لائے یہ ایک حقیقت ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ہے۔انا للہ۔ہم اور ہماری ہر چیز خدا تعالیٰ کی امانت اور اس کی ملکیت ہے۔وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اگر صبر کیا تو لوٹ کر سورۃ النساء آیت ۵۹