سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 364 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 364

سبیل الرشاد جلد دوم 364 مقابلے میں اپنی کیفیت اور کمیت ہر دو لحاظ سے بالکل چھوٹی چیز ہے تو ہمیں وہ نمونہ دکھانا چاہئے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ تمہیں تھوڑی سی تکلیف بھی پہنچاؤں گا۔تھوڑا سا آزماؤں گا، تمہارا امتحان لوں گا۔تمہارے لئے تھوڑے سے خوف کے حالات پیدا ہوں گے۔خوف کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ مخالف بڑی دھمکیاں دیتے ہیں۔وہ ڈراتے ہیں کہ یوں ہو جائے گا اور یوں ہو جائے گا۔مجھے یاد ہے ۵۳ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بہت بڑے لیڈر کا پیغام آیا کہ (نعوذ باللہ ) اب تو آپ ختم ہو گئے۔آپ نے اپنی اور جماعت کی جان بچانی ہے تو ایک ہی صورت ہے کہ جو لکھا ہوا ڈرافٹ ہم آپ کو بھیجیں اُس پر دستخط کر دیں ور نہ آپ مارے گئے۔کسی نے جب یہ پیغام دیا تو حضرت صاحب نے فرمایا میں تو خدا کو ماننے والا ہوں۔انسانوں کی پرستش کرنے والا تو نہیں ہوں۔دنیا کے ہر خطہ میں کسی نہ کسی وقت اس قسم کے حالات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن جو مومن ہے اس کے لئے جب کبھی خوف کے حالات پیدا ہوں تو وہ اپنے خدا کو بھول تو نہیں جا تا۔پھر فرما یا والجوع اور بھوک سے تمہیں آزماؤں گا۔یہ آزمائش بھی آتی ہے۔ایک تو اس طرح کہ قریش مکہ نے مسلمانوں گو شعب ابی طالب میں قید کر دیا۔مسلمانوں کی ایسی ناکہ بندی کی کہ اُن کے کھانے کے سارے راستے بند کر دیئے اور کہا کہ ہم تمہیں بھوکا مار دیں گے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ تم رازق ہو یا میں رازق ہوں۔پس وہ مسلمانوں کو بھوکا تو نہیں مار سکے البتہ کفار نے مسلمانوں کو تکلیف ضرور دی جسے انہوں نے بشاشت کے ساتھ برداشت کیا۔ایک بہت بزرگ صحابی کہتے ہیں کہ ایک رات اندھیرے میں میرے جوتے کے نیچے کوئی چیز آئی اور مجھے احساس ہوا کہ وہ کوئی نرم چیز ہے۔میں نے اُسے اٹھایا اور کھا لیا اور مجھے کچھ پتہ نہیں وہ کیا چیز تھی۔یہ حال تھا اُن کی بھوک کا۔لیکن اس ابتلاء کو بھی انہوں نے بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔پھر جنگ احزاب کے موقع پر ایک صحابی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اب تو تکلیف بہت بڑھ گئی ہے۔آزمائش کا زمانہ لمبا ہو گیا ہے۔انہوں نے اپنی قمیض اٹھائی اور یہ ایک طریقہ تھا میرے خیال میں ضرور فائدہ دیتا ہو گا کہ اگر معدے کو دبایا جائے تو بھوک کا احساس کم ہو جاتا ہے تو اس کے لئے وہ یہ کرتے تھے کہ کوئی چیز لے کر پٹکے کے ساتھ معدے پر باندھ دیتے تھے۔غرض انہوں نے اپنا پیٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا جس پر ایک پتھر چٹکے کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ حالت ہو گئی۔ہم پتھر باندھے ہوئے پھر رہے ہیں۔آپ