سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 18 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 18

18 سبیل الرشاد جلد دوم سے آپ پر نازل کی وہ تمام دنیا کے لئے اور تمام ملکوں کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے ہے۔جو قوت قدسیہ جو روحانی تا شیروں کی قوت اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی وہ نہ ختم ہونے والی اور نہ مرنے والی ہے۔قیامت تک آپ کے فیوض جاری ہیں اور قیامت تک جو چاہیں آپ کے چشمہ سے سیر ہو کر روحانیت کا پانی پی سکتے ہیں اور آپ کے فیوض کے حصول کے بعد ان راہوں پر گامزن ہو کر جو آپ نے دنیا کو بتا ئیں ، اپنے مولی ، اپنے پیدا کرنے والے، اپنے رب کی رضا کو اور اس کی خوشنودی کو حاصل کر سکتے ہیں۔یہ آیات جو میں نے ابھی پڑھی ہیں ان میں اسی بنیادی مسئلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا وہ لوگ جو اپنے قول اور اپنے فعل سے اس دعوے کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مقدس ذات اور ان صفات کاملہ کے ساتھ ، اُن صفاتِ حسنہ کے ساتھ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خود کو پیش کیا ہے ، وہ اللہ ہمارا رب ہے۔اس نے ہمیں پیدا کیا۔وہی ہماری ربوبیت کرنے والا ہے۔جو جسمانی اور روحانی قوی اور استعدادیں اس نے ہمیں دی ہیں اگر اس کی ربوبیت ہمارے شاملِ حال نہ ہو تو ہم ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔وہ خود ہمارے ہاتھ کو پکڑتا ہے۔ہمیں اپنی تربیت میں لیتا ہے اور جس غرض کے لئے اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اُس غرض کو اپنے فضل سے اس طرح پورا کر دیتا ہے کہ ہمیں وہ اپنا کامل اور نیک اور محبوب بندہ بنادیتا ہے کیونکہ انسانی پیدائش کی غرض ہی یہ ہے کہ انسان خدا کا بندہ بن جائے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جولوگ اپنے قول اور اپنے فعل سے اس دعویٰ کا اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو جس صورت اور جس رنگ میں قرآن کریم میں انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔وہ اللہ ہمارا پیدا کرنے والا اور ہماری ر بوبیت کرنے والا ، ہمیں کامیابی تک پہنچانے والا ہے۔پھر وہ اِسْتَقَامُوا۔فطرتِ صحیحہ کی اس آواز پر استقامت کے ساتھ قائم رہتے ہیں اور مستقیم الفطرت بنے رہتے ہیں۔ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ یہ فطری ہئیت کہ بندہ، بندہ ہے اور رب ، رب ، اس فطرت صحیحہ پر وہ قائم رہیں اور یقین رکھیں کہ خود وہ کچھ بھی نہیں۔تو فرمایا کہ جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس قسم کا دعوی کرتے ہیں۔ہمارا ان کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے کہ ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ محض زبانی دعویٰ