سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 343
سبیل الرشاد جلد دوم 343 کی وجہ سے بہت سی احادیث جو درست تھیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ارشادات تھے لیکن راوی کمزور ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنی صحیح میں اُن کو درج نہیں کیا۔یہ ٹھیک ہے حضرت امام بخاری نے بڑی محنت کی ہے صحاح ستہ میں ان کی کتاب جو بخاری شریف کہلاتی ہے سر فہرست ہے لیکن صحیح بخاری میں گل ۱۹۰۸۲ حادیث ہیں جبکہ صحیح مسلم میں ۱۲۰۰۰ ہیں۔اب یہ جو ۳۰۰۰ احادیث کا فرق ہے۔اس کی وجہ سے بھی اس لحاظ سے تفرقہ پڑ گیا کہ جن علاقوں میں لوگ مسلم کی حدیث کو پکڑنے والے تھے۔انہوں نے ان کو ترجیح دی اور وہ جو زائد حدیثیں تھیں وہ بھی ان کے سامنے آ گئیں۔ابن رشد جو اندلس کے ایک بہت بڑے فلاسفر اور بہت بڑے دینی عالم تھے انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام بدایۃ المجتھد ہے۔اس میں انہوں نے فقہاء کا جو اختلاف ہے وہ بیان کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ مثلاً ایک حدیث حضرت امام ابو حنیفہ کے پاس پہنچ گئی تھی لیکن امام شافعی کو نہیں پہنچی تھی۔اس لئے امام ابوحنیفہ نے اور فتویٰ دیا اور امام شافعی نے اور فتویٰ دیا۔پس ایک تو یہ ہے کہ امام بخاری نے بڑی احتیاط کی اس لئے بہت سی احادیث جو صحیح تھیں وہ اُن تک نہیں پہنچ سکیں مثلاً جو احادیث صوفیائے کرام نے لی ہیں ان میں سے بہت ساری ایسی ہیں کہ جو محدثین کے پاس نہیں پہنچی تھیں دوسرے یہ کہ با وجود اتنی احتیاط کے پھر بھی بخاری میں ایسی حدیثیں ملتی ہیں جن کا ٹکراؤ ہو جاتا ہے، خود بخاری کی دوسری احادیث سے یا جن کا ٹکراؤ ہو جاتا ہے ، قرآن کریم کے بعض مضامین کے ساتھ۔پس یہ دو خامیاں احادیث کی کتب میں ہمیں نظر آتی ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جگہ جگہ ٹولیاں بن گئیں اور امت محمدیہ امت واحدہ نہ بن سکی۔ٹولیاں بن گئیں اسلام کے اندر اور یہ بڑھتی چلی گئیں۔تا ہم ان بزرگوں کا جو زمانہ تھا اس میں لوگ ایک دوسرے کی نہایت عزت اور احترام کرنے والے تھے۔ان کا آپس میں الا ماشا اللہ کوئی لڑائی جھگڑا نہیں تھا۔لیکن بعد میں آنے والوں نے ان بزرگوں کے اختلافات کو وجہ تفریق بنا لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احادیث کی صحت کے بارہ میں اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو پرکھنے کے لئے کہ آیا راوی کی روایت درست ہے یا نہیں۔ایک یہ اصول ہے کہ ہر وہ قول جس کو راوی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے اگر وہ بات قرآن کریم کی کسی آیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ہوسکتا اور اگر کسی راوی کی کوئی روایت قرآن کریم سے کچھ زائد کر رہی ہے تو ظاہر ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا بھی نہیں فرما سکتے تھے اور اگر قرآن کریم سے کچھ کم کر رہی ہے تب بھی