سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 344 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 344

344 سبیل الرشاد جلد دوم ماننا پڑے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں فرما سکتے تھے کیونکہ آپ نے تو خدا تعالیٰ کی وحی سے دنیا میں یہ اعلان فرمایا تھا۔اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ قرآن کریم ایک کامل شریعت اور مکمل ہدایت کے طور پر تمہارے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔اب اس سے نہ کچھ زائد ہو سکتا ہے اور نہ کچھ کم ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں اس بارہ میں جو دوسری بات بتائی وہ یہ ہے کہ ہر وہ حدیث جس کو محدثین نے قبول نہیں کیا اور ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا کیونکہ اُن کو اس میں کوئی نقص نظر آیا لیکن اگر خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت بتاتی ہے کہ وہ درست ہے تو وہ حدیث صحیح ہے۔جس حدیث کی صحت پر خدا تعالیٰ کا فعل گواہ ہے اس کے ماننے میں تردد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مثلاً آئندہ کے متعلق کوئی پیشگوئی ہے۔اگر وہ واقع میں پوری ہو جاتی ہے تو وہ حدیث صحیح ہے کیونکہ خدا کے علا وہ تو کسی کو علم غیب نہیں۔عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ تو اسی کی ذات ہے۔آئندہ کی خبر میں دینے والی صرف وہی ذات ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حدیث کی صحت کے بارہ میں تیسری بات ہمیں یہ بتائی کہ نیکی کی ہر وہ بات جو حدیث کی کتابوں میں بیان ہوئی ہے اگر وہ قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف نہیں اور ہمیں یہ بھی سمجھ نہیں آرہا کہ یہ کس آیت کی تشریح ہے تو چونکہ وہ حدیث حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتی ہے اس لئے ہمارے دل میں آپ کا جو پیار ہے، وہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اس کو قبول کر لیں اور اس کے مطابق عمل کریں کیونکہ اس میں خرابی کی کوئی بات نہیں۔وہ قرآن ، قرآن کریم کی کسی آیت یا اس کے کسی مضمون کے خلاف نہیں ہے۔غرض حدیث اور حدیث پر جو فقہ کی بنیا د رکھی گئی ہے اس کی وجہ سے امت محمدیہ مہدی علیہ السلام کی بعثت سے قبل مختلف فرقوں میں بٹ گئی۔خدا تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتا دیا تھا کہ تیری امت ۷۲ فرقوں میں بٹ جائے گی۔ویسے ۷۲ کا یہ عمل بھی تحقیق طلب ہے۔میں نے کسی جگہ پڑھا ہے اور میرے ذہن پر یہ اثر ہے کہ اوّل تو ۷۲ تعداد نہیں بلکہ ان کی کثرت کی طرف اشارہ ہے۔دوسرے یہ کہ اسلام میں کچھ فرقے پیدا ہوتے تھے۔پھر ختم ہو جاتے تھے۔کچھ فرقے بنتے تھے۔اور پھر مٹ جاتے تھے۔پھر کچھ نئے فرقے بیچ میں پیدا ہو جاتے تھے۔لیکن یہ صحیح ہے کہ امت محمدیہ فرقہ فرقہ ہوگئی۔اس حالت میں بھی کثرت کمیت ہے یعنی بڑی کثرت سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضۂ روحانیہ سے فیض حاصل کر کے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا یہ گروہ ہے جس کی لاکھوں کی تعداد ہے۔سورۃ المائدہ آیت ۴