سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 342
342 سبیل الرشاد جلد دوم ان بزرگوں نے بڑی محنت کی۔حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور سنت کا مجموعہ ہے جو روایتیوں کے ذریعہ ہمارے ان بزرگوں تک پہنچا یعنی ایک شخص کہتا ہے کہ فلاں شخص نے مجھ سے بیان کیا اور اس سے فلاں شخص نے بات کی اور اسے فلاں نے بتایا تھا کہ فلاں موقع پر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فر ما یا تھا یا یہ کام کیا تھا۔تین چار بلکہ بعض دفعہ تو چھ سات راویوں کے ذریعہ حدیث پہنچتی ہے۔پس محدثین نے اپنی طرف سے بڑی محنت کی۔انہوں نے یہ دیکھا کہ راوی ثقہ ہے یا نہیں۔پھر یہ بھی دیکھا کہ راوی کا حافظہ درست ہے یا نہیں۔پھر یہ بھی دیکھا کہ درایت کے اعتبار سے راوی کیسا ہے یعنی دینی علوم میں اس کی سمجھ ایسی ہے کہ دینی معاملات میں اس کی بات پر اعتبار کیا جا سکے۔پھر حدیث پر فقہ کی بنیاد پڑی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات جو امت محمدیہ کو ایک کرنے کے لئے ہیں اُن کے نتیجہ میں امت محمدیہ میں بہت سے گروہ بن گئے حدیث کی وجہ سے بھی اور حدیث پر جو فقہ کی بنیاد پڑی اس کی وجہ سے بھی کیونکہ فقہ میں چار اماموں کی وجہ سے چار مختلف فقہی مسلک بن گئے۔ایک امام ابوحنیفہ کی فقہ ہے دوسری امام شافعی کی فقہ ہے تیسری امام مالک کی فقہ ہے اور چوتھی امام احمد بن حنبل کی فقہ ہے۔یہ چار فقہی مسلک ہیں۔دنیا کے مختلف علاقوں میں کہیں ایک فقہ پر عمل کیا جا رہا ہے۔اور کہیں دوسری فقہ پر عمل کیا جا رہا ہے۔اس سے فقہی معاملات میں ایک تفرقہ پیدا ہو گیا۔حالانکہ تھے یہ بڑے بزرگ۔اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن ان بزرگوں کی جو کثرت ہے ان کے اندر خدا تعالیٰ کی یہ حکمت ہمیں نظر نہیں آتی کہ ان کو کسی ایک مرکزی نقطے سے باندھ کر امت کو ان تفرقوں سے بچالیا جائے جو بعد میں پیدا ہو گئے تھے۔ہمارے ذہن میں بھی بہت سی حکمتیں آتی ہیں لیکن نہ بھی آئیں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کوئی کام بھی حکمت کے بغیر نہیں ہوتا۔جہاں تک فقہ کا تعلق ہے ایک فقہ افریقہ کے اندر رائج ہوگئی۔دوسری مدینہ جو اُس وقت ہمارا اسلامی مرکز تھا اس کے اندر رائج ہو گئی۔حضرت امام مالک مدینہ کے فقہیہ تھے۔چنانچہ مدینہ میں بسنے والوں نے جواحادیث ان کے سامنے بیان کی تھیں وہ صرف ان احادیث پر بنیا د رکھ کر مسائل حل کرتے تھے اور چونکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم بکھر چکے تھے۔دنیا میں پھیل چکے تھے۔ان سے جو روایتیں مروی ہوتی تھیں ان کے متعلق حضرت امام مالک کہتے تھے نہیں ! میں ان کی طرف نہیں جاؤں گا۔میں صرف مدینہ کے راویوں کولوں گا۔اس لئے ان پر فتوے بھی لگ گئے لیکن بہر حال ایک اختلاف پیدا ہو گیا۔(میں حدیث اور فقہ کو اکٹھا بیان کر رہا ہوں ) پھر جہاں تک احادیث کا تعلق ہے گو صحیح بخاری اصح الکتب بعد کتاب اللہ سمجھی جاتی ہے۔لیکن اس کے اندر بھی ہمیں دو نقص نظر آتے ہیں۔ایک تو یہ کہ بہت محتاط ہونے