سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 341
341 سبیل الرشاد جلد دوم درجات بلند کرے لیکن اصول تفسیر کو مدنظر نہ رکھنے سے بعض سقم پیدا ہو گئے مثلاً قرآن کریم نے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔لیکن بعض مفسرین نے تفسیر کرتے ہوئے کسی نبی پر ایک الزام لگا دیا دوسرے پر دوسرا الزام لگا دیا اور بڑے سخت الزام لگا دیئے۔کسی نبی پر جھوٹ بولنے کا الزام لگا دیا اور کسی پر کچھ اور الزام لگا دیا۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے کہ کوئی جھوٹا آدمی خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل نہیں کر سکتا کجا یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کے پیار کا اتنا بلند درجہ حاصل کر لے کہ خدا تعالیٰ اسے نبوت کے مقام پر فائز کر دے اور ایک دُنیا کا اس کو رہبر بنا دے اور ایک دنیا کو کہے کہ اس کی اتباع کرو تو کیا پھر لوگ جھوٹ بولنے میں اس کی اتباع کریں گے۔پس قرآن کریم کی تفسیر کرنے کے جو اصول ہیں کسی سے کسی اصول میں غلطی ہو گئی۔کوئی کہیں کسی اصول کو نظر انداز کر گیا اور کوئی کہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت عثمان بن فودگی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک صدی قبل نائیجریا اور اس کے اوپر نائیجر کا جو علاقہ ہے۔اس میں بشارتوں کے ماتحت تجدید دین کا کام کرتے رہے یعنی وہاں کے جو اولیاء اللہ تھے اُن کو خدا تعالیٰ نے یہ بشارت دی تھی کہ خدا تم میں سے ایک مجدد پیدا کرنے والا ہے۔چنانچہ ان بشارتوں کے مطابق حضرت عثمان بن فودی جب مجد دبنے تو انہوں نے اپنے ماننے والوں کو کہا کہ تفسیر میں بالکل نہ پڑھنا کیونکہ ان میں رطب و یابس بھی آ گیا ہے۔پس قرآن کریم جیسی عظیم کتاب جو خود اپنی تفسیر کی رہبری کرنے والی ہے اور بتاتی ہے کہ اس طرح میری تفسیر کرنی ہے اور اس طرح نہیں کرنی اس میں بھی لوگ غلطیاں کر گئے۔لیکن تھے وہ بڑے بزرگ۔انہوں نے بدنیتی سے غلطیاں نہیں کیں۔لیکن ایسی غلطیاں ہوئیں اور خدا تعالیٰ نے اُن کو ان غلطیوں سے محفوظ نہیں کیا کیونکہ ان غلطیوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان امت واحدہ نہ بن سکے اور ابھی اس کا وقت بھی نہیں آیا تھا۔مفسرین ایک دوسرے کی تصحیح بھی کرتے رہتے تھے۔کوئی مان جاتے تھے اور کوئی نہیں مانتے تھے۔پھر بعد میں جب میج اعوج کا زمانہ آیا اور ظلمات نے زور پکڑ لیا تو پھر اس سے فتنے پیدا ہوئے ورنہ شروع میں امت مسلمہ اس قسم کے فتنوں سے محفوظ رہی۔دوسرے نمبر پر آتی ہیں احادیث کی کتب۔محدثین میں حضرت امام بخاری ہیں (۱۹۴۔۲۵۶ھ ) حضرت امام مسلم ہیں (۲۰۶ ۲۶۱ ھ ) امام نسائی ہیں (۲۱۵ ۳۰۳ ھ ) ابوداؤد ہیں (۲۰۲-۲۷۵ھ) امام ترمذی (۲۰۰ - ۲۷۹ ھ ) ابن ماجہ ہیں۔امام مالک ہیں (۹۵-۱۷۹ھ ) یہ ویسے فقہ کی طرف زیادہ مائل ہیں اس لئے موطا امام مالک کو صحاح ستہ میں شمار نہیں کیا گیا لیکن حدیث کی بڑی اچھی کتاب ہے۔یہ بزرگ بھی پہلی تین صدیوں میں پھیلے ہوئے ہیں جو خیر القرون کہلاتی ہیں۔احادیث کے اکٹھا کرنے میں