سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 340
340 سبیل الرشاد جلد دوم کوئی ایسی تفسیریں نہیں کی جاسکتیں جن میں آپس میں تضاد پایا جاتا ہو۔اور نہ ہی قرآن کریم کی کوئی ایسی تفسیر کی جاسکتی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ اور مسلمہ تفسیر کے مخالف ہو۔اسی طرح قرآن کریم کی کوئی ایسی تفسیر بھی نہیں کی جاسکتی کہ جو اللہ تعالیٰ کی جو عظمت اور بزرگی اور جلال اور کبریائی اور شان قرآن کریم نے بیان کی ہے وہ اس کے خلاف ہو یعنی اگر کوئی مفسر کسی آیت کی کوئی ایسی تفسیر کر دے جو خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے خلاف ہو تو وہ صحیح تفسیر نہیں سمجھی جائے گی۔قرآن کریم کی کوئی ایسی تفسیر صحیح نہیں سمجھی جائے گی جو عربی لغت کے خلاف ہو۔اگر ایسا ہو تو پھر تفسیر بالرائے بن جاتی ہے۔میں آپ کو ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں۔گورنمنٹ کالج لاہور میں ہمارے ایک اُستاد تھے۔ایک دفعہ انہوں نے عربی کے پرچے میں مجھے فیل کر دیا۔میں بڑا حیران ہوا کہ مجھے کیوں فیل کیا ہے۔کیونکہ میرا خیال تھا سا دے سے سوال ہیں مثلاً مفردات ہیں اُن کی جمع اور جمع کی مفر لکھنی تھی۔اگر مفرد اور جمع صحیح لکھی گئی ہے تو پورے نمبر ملنے چاہئیں اگر نہیں لکھی گئی تو ایک نمبر بھی نہیں ملنا چاہئے۔ہمیں پر چہ واپس مل جاتا تھا۔جب مجھے پر چہ ملا تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے مجھے فیل کرنے کے لئے یہ اصول بنایا کہ صحیح پرچہ پر سرخ پنسل سے چرخی ڈال دی۔یعنی جمع کی مفر د صحیح تھی اور مفرد کی جمع صحیح تھی۔مگر انہوں نے چرخی ڈالی اور نمبر کاٹ لئے۔مجھے تو شرمندگی کا سامنا کرنا تھا وہ سٹاف روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔سٹاف میں مسلمان بھی تھے اور عیسائی بھی۔ہندو بھی تھے اور سکھ بھی۔میں اُن کے پاس گیا چونکہ استاد کا ہمیشہ ادب کرنا چاہئے اس لئے میں نے بڑے ادب سے کہا یہ جو آپ نے چرخیاں ڈالی ہیں معلوم ہوتا ہے کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے ورنہ جمع کی مفرد درست ہے اور مفرد کی جمع درست ہے۔لیکن کسی غلط فہمی کی وجہ سے چرخی پڑ گئی۔نمبر کاٹنے تھے آپ نے کاٹ لئے تو مجھے کہنے لگے نہیں یہ درست نہیں۔میں نے کہا یہ تو آسان بات ہے۔میں عربی لغت کی کتاب لے آتا ہوں۔اگر اس نے اس مفرد کی یہی جمع دی ہے تو درست ہے ورنہ نہیں اور اگر اس جمع کا یہی مفرد دیا ہے تو درست ہے ورنہ نہیں۔تو وہ سب کے سامنے آرام سے میری طرف منہ اٹھا کر کہنے لگے لغت کا کیا ہے اس میں سے تو ہر چیز نکل آتی ہے۔پس اگر تفسیر میں بھی اس طرح کیا جائے تو پھر تو کام نہیں چلتا اس لئے قرآن کریم کی تفسیر کا ایک اصول یہ ہے کہ قرآن کریم کے کسی لفظ کے وہ معنے نہ کئے جائیں جن کی عربی لغت حامل نہیں ہو سکتی۔اسی طرح کے اور بہت سے اصول ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے کے مفسرین کا جو عمل تھا اور اُن کا جو طریق تھا اس میں اصول تفسیر کو عموماً نظروں کے سامنے نہیں رکھا گیا۔ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے اس میدان میں بڑی محنت کی اور دین کی بڑی خدمت کی اللہ تعالیٰ اُن کو جزا دے اور اُن کے