سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 332

سبیل الرشاد جلد دوم 332 جن میں اس جہت سے بعض دفعہ مجھے شرمندگی اٹھانی پڑی۔پریس کا نفرنس میں صحافیوں نے پوچھا کہ آپ اسلام کی جو تعلیم بتا رہے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ وہ بڑی اچھی ہے اور بڑی حسین ہے لیکن یہ بتائیں کہ دنیا میں اس پر عمل کون کر رہا ہے۔یہ اعتراض احمدیوں کو تو اپنے اوپر نہیں لینا چاہئے۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اور بڑی بڑی باتوں میں بھی ہمیں ہدایت دی گئی ہے۔اور ہدایت ہم پر بوجھ ڈالنے کے لئے نہیں دی گئی بلکہ ہمارے بوجھوں کو ہلکا کرنے کے لئے دی گئی ہے۔مثلاً ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ضرورت سے زیادہ نہیں کھانا ، اسراف نہیں کرنا۔اب کوئی شخص یہ کہے کہ دیکھو جی ہمیں کھانے پینے سے بھی روک دیا گیا ہے اور یہ بوجھ بن گیا ہے درست نہیں ہے کئی ایسے بھی پیٹو ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے بہت کھانا ہے۔لیکن یہ حکم ہم پر بوجھ ڈالنے کے لئے نہیں بلکہ ہمارے پیٹ کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے دیا گیا ہے تاکہ پیٹ میں اپھارہ نہ ہو جائے اور ہمیں تکلیف نہ ہو۔اسی طرح قرآنی تعلیم کے سارے احکام ہیں جو ہمارے بوجھوں کو ہلکا کرتے ہیں، ہمارے بوجھوں کو وزنی نہیں کرتے ان کو بوجھل اور نا قابل برداشت نہیں بنا دیتے۔اسلام کا ایک حسین نمونہ بن جاؤ پس جہاں تک ممکن ہو اور جہاں تک خدا تعالیٰ تمہیں ہمت دے۔اور دعاؤں کے ذریعہ اس سے زیادہ ہمت مانگو۔اور اسلام کا ایک حسین نمونہ بن جاؤ۔پھر دیکھو کہ کس طرح انقلاب بپا ہوتا ہے۔اب بھی جماعت ایک حد تک نمونہ ہے لیکن اس حد تک نہیں جس حد تک ہم چاہتے ہیں کہ جماعت نمونہ بنے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور جس غرض کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجلس انصار اللہ کو قائم کیا تھا۔اس غرض کو ہم پورا کرنے والے ہوں۔اور جس مقصد کے لئے مہدی معہود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا تھا۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ہم ان کو ادا کرنے والے ہوں۔اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کے قرب کو پانے والے اور اس کی رضا کی جنتوں میں داخل ہونے والے بن جائیں۔آمین۔( غیر مطبوعہ ) 1 سورۃ الاعراف آیت 32