سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 331
331 سبیل الرشاد جلد دوم ہے۔اس صدی کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں کافی ہیں کسی نئے مجدد کی ضرورت نہیں۔مسجد دتو ضرورت کے وقت آیا کرتا ہے لیکن اس انگلی صدی کے لئے بھی آپ کی کتابیں کافی ہوں گی اور ایک ہزار سال تک کے لئے جو ضرورت ہے وہ آپ کی تفسیر کے اندر موجود ہے۔لیکن ہمیں تو اپنی فکر کرنے کی ضرورت ہے اور ہماری ضرورتیں اگر کہیں سے پوری ہوسکتی ہیں قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب ہی پورا کر سکتی ہیں۔ہمارے اپنے کئی حفاظ اور قاری ہیں جو پچھلے ایک دو سال میں احمدی ہوئے ہیں ان میں سے بہت ایسے بھی ہیں جنہوں نے احمدی ہونے کے بعد قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنا شروع کیا ہے۔یعنی ان کو یہ شوق پیدا ہوا ہے کہ قرآن کریم محض لفظوں کا مجموعہ نہیں ہے۔قرآن کریم تو بڑی وسعتوں والی بڑی گہرائیوں والی اور بڑی رفعتوں والی کتاب ہے۔قرآن کریم کی جو عظمت ہے اسے انسان پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکتا۔اور جتنی سمجھ لے وہ اسے حیران کر دیتی ہے۔اور یہ سمجھ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب عطا کرتی ہیں۔بعض جگہ آپ نے قرآن کریم کا ایک ٹکڑا لیا ہے بلکہ بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ مختلف کتب میں اس کا صرف ترجمہ کیا تفسیر نہیں کی اور دس جگہ دس مختلف ترجمے کر گئے ہیں۔ایک دفعہ میں نے سات آٹھ خطبے آپ کے کئے ہوئے تراجم پر بنیاد رکھ کر دے دیئے تھے کیونکہ وہ مجھے مضمون سکھا دیتے تھے۔ہر ترجمہ ایک نیا مضمون دماغ میں ڈالتا تھا پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کی شکل میں آپ کو ایک بہت بڑا خزانہ ملا ہے۔اور آپ نے اسے صندوقچی میں بند کر کے رکھ دیا ہے اور بہت سے ایسے بھی گھر ہیں جہاں یہ صندوقچی بھی نہیں ہے جس میں یہ خزانہ پڑا ہو یعنی کتا بیں بھی موجود نہیں۔ہماری جماعت کو نمونہ بننا ہوگا دوسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہماری جماعت کو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ ہم دنیا کے لئے اسلام کا ایک نمونہ بنیں۔اور یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔پس جس حد تک ممکن ہو اور جتنی کسی میں استعداد ہو اس کے مطابق تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاق اللہ کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھا کر اور اپنی زندگی کے ہر فعل کو اسلام کی حکومت کے تلے رکھ کر دنیا کے لئے ایک نمونہ بننا ضروری ہے۔اگر ہم ایسا نمونہ بن چکے ہوتے تو اس وقت ہمیں تبلیغ کے راستے میں مشکلات پیش نہ آتیں۔مثلاً یہ ہمارا ملک ہے اس میں وہ دقتیں ہمارے لئے باقی نہ رہتیں جو اب ہمیں نظر آ رہی ہیں۔پس تبلیغ کا بہترین طریقہ نیک نمونہ پیش کرنا ہے۔یورپ میں میرے بعض ایسے دورے ہوئے کہ