سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 333 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 333

سبیل الرشاد جلد دوم 333 سید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث رحم اللہ تعالی کا انتقامی خطاب فرموده ۳۰ را خا۱۳۵۶۶ بهش ۳۰ اکتوبر۱۹۷۷ء بمقام احاطہ دفا تر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ ۳۰ را خاء۱۳۵۶ بهش بمطابق ۳۰ر اکتوبر ۱۹۷۷ ء دفاتر انصار اللہ مرکزیہ کے لان میں سالانہ اجتماع انصار اللہ سے جو اختتامی خطاب فرمایا تھا۔اس کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں ایک رُوحانی انقلاب بپا کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔آپ کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ انسان جو خدا سے دور چلا گیا، اُسے دوبارہ خدا کی طرف لے کر آئیں اور نیکی اور تقویٰ اور صلاحیت اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی جو راہیں خدا کے نزدیک کشادہ اور درست اور مستقیم ہیں ، انسان پر وہ راہیں کھولیں۔آپ کا وجو د سب انسانوں سے عظیم ، بہت ہی برکتوں والا ، بڑے احسان کرنے والا اور دُنیا کی انتہائی خیر خواہی کرنے والا اور ایک عض روحانی طاقت رکھنے والا وجود تھا جس سے استفادہ کرنا انسان کے لئے قیامت تک ممکن ہے کیونکہ آ۔کا زمانہ اپنی بعثت سے لے کر قیامت تک ممتد ہے۔اور اب انسان سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہیں اور سے کوئی خیر اور خوبی حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور افاضہ رُوحانیہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور ہمیں نہایت ہی دلنشیں پیرا یہ میں یہ باتیں سمجھائی ہیں۔میں اس وقت آپ کے چند اقتباسات پڑھوں گا۔آپ فرماتے ہیں : در میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ہزار ہزار دُرود اور سلام اُس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا۔اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔