سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 312 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 312

312 سبیل الرشاد جلد دوم ہم جو صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر صبح تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والے ہیں اور اس کے باوجود سمجھتے ہیں کہ ہم آپ کے احسانوں کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ہمیں تم کہتے ہو کہ ہم اپنا رشتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قطع کر دینے کا اعلان کر دیں۔کیا ہم پاگل ہو گئے ہیں۔نہیں خدا تعالیٰ نے ہمیں فراست عطا کی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہماری رُوح کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اور پیار سے بھر دیا ہے۔ہم آپ کا انکار کیسے کر سکتے ہیں۔موجودہ ماحول میں ان حقائق کو ذہن نشین کرانا اور زیادہ ضروری ہے : پس یہ وہ باتیں ہیں جو انصار کو سمجھنی چاہئیں اور اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ اطفال اور خدام کو بھی سمجھاتے رہیں۔اب اس ماحول میں یہ بات نہایت ضروری ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب بھری پڑی ہیں ان چیزوں سے۔میں نے اس سلسلہ میں کچھ حوالے نکلوائے تھے۔لیکن بہت ساری باتیں ذہن میں بھی حاضر رہتی ہیں۔وہ تو میں نے بیان کر دیں۔اس کے علاوہ چند حوالے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے پڑھوں گا۔آپ فرماتے ہیں : مجھے بتلایا گیا ہے کہ تمام دینوں میں سے دینِ اسلام ہی سچا ہے۔مجھے فرمایا گیا ہے کہ تمام ہدایتوں میں سے صرف قرآنی ہدایت ہی صحت کے کامل درجہ پر انسانی ملاوٹوں سے پاک ہے۔مجھے سمجھایا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُر حکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور مجھے خدا کی پاک اور مظہر وجی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود اور اندرونی اور بیرونی اختلافات کا حکم ہوں۔پھر آپ فرماتے ہیں : میں سچ سچ کہتا ہوں کہ زمین پر وہ ایک ہی انسان کامل گزرا ہے جس کی پیشگوئیاں اور دُعائیں قبول ہونا اور دوسرے خوارق ظہور میں آنا ایک ایسا امر ہے جواب تک امت کے سچے پیروؤں کے ذریعہ سے دریا کی طرح موجیں مار رہا ہے بجز اسلام وہ مذہب کہاں اور کدھر ہے جو یہ خصلت اور طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور وہ لوگ کہاں ہیں اور کس ملک میں رہتے ہیں جو اسلامی برکات اور نشانوں کا مقابلہ اربعین نمبر اول صفحه ۳ - ۴ ، مورخہ ۲۳ / جولائی ۱۹۰۰ء روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۳۴۵