سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 313
سبیل الرشاد جلد دوم کر سکتے ہیں۔اگر انسان صرف ایسے مذہب کا پیرو ہو جس میں آسمانی روح کی کوئی ملاوٹ نہیں تو وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔مذہب وہی مذہب ہے جو زندہ مذہب ہو اور زندگی کی روح اپنے اندر رکھتا ہو اور زندہ خدا سے ملاتا ہو اور میں صرف یہی دعوی نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی سے غیب کی باتیں میرے پر کھلتی ہیں اور خارق عادت امر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ جو شخص دل کو پاک کر کے اور خدا اور رسول پر سچی محبت رکھ کر میری پیروی کرے گا وہ بھی خدا تعالیٰ سے یہ 313 نعمت پائے گا۔ہماری سب سے بڑی ذمہ داری قبل اس کے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور اقتباس پڑھوں ، میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس دُنیا کے جو دکھ اور پریشانیاں ہیں ، اُن کو دُور کرنے کے لئے ہم پر بہت کچھ کرنے کی ذمہ داری ہے۔لیکن سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دعائیں کریں۔میں نے بعض نیم تربیت یافتہ نو جوانوں کے منہ سے بھی یہ بات سنی ہے کہ یہ لوگ ایسے ہو گئے ہیں کہ ان کو تو کبھی ہدایت نہیں ملے گی۔یہ غلط بات ہے۔ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے لیکن پیار سے اور احسن طریقہ پر دلائل دے کر سمجھانا یہ ہمارا کام ہے اور پھر دُعائیں کرنا کہ خدا تعالیٰ جس کے ہاتھ میں انسان کا دل ہے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کا دل ، خدا کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔اُنگلیوں کے بدلنے سے اس کا زاویہ بدلتا رہتا ہے۔پس ہدایت خدا دیتا ہے۔میں نے یا آپ نے کسی کو ہدایت نہیں دینی۔لیکن ہمارا یہ کام ہے کہ ہم لوگوں کو پیار سے سمجھا ئیں۔ہم نے ساری دُنیا کے دل جیتنے ہیں۔ہم نے پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ اس عظیم مہم میں اُن کو بھی شامل کرنا ہے جو اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور آج ہمارے مخالف ہیں۔ہمیں دُکھ بھی دیتے ہیں لیکن ہمارے دل میں کسی کی دشمنی نہیں ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس سے ظاہر ہے جسے میں ابھی پڑھ کر سناؤں گا۔سب سے زیادہ اہم ہتھیار جو دنیا میں ہمیں دیا گیا ہے ( میں دُنیا کی بات کرتا ہوں ) وہ دُعا کا ہتھیار ہے۔اس وقت جو عیسائی دُنیا ہے اُن کے عقائد میں اختلاف ہے۔غیر مسلم دنیا ہے۔ایک طرف روس میں بسنے والا دہر یہ ہے دوسری طرف سرمایہ دارانہ حکومتیں ہیں جو عیسائیت کا لیبل لگائے ہوئے ہیں۔لیکن پتہ نہیں اُن کا کیا مذہب ہے۔بہر حال ان سب کے لئے ہم نے دُعائیں کرنی ہیں کہ وہ اپنے اربعین روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۳۴۶