سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 306
306 سبیل الرشاد جلد دوم کی پیدائش کا سبب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔اس لئے ہم آپ ہی کی اتباع کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انسان اپنی کوشش سے خدا تعالیٰ کا چھوٹے سے چھوٹا پیار بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا۔انسان کو روحانی طور پر سرور اور خدا تعالیٰ کا جو پیار حاصل ہوتا ہے اور جس کے نتیجہ میں وہ رُوحانی طور پر قر بانی اور ایثار دکھاتا ہے۔یہ پہلا قدم ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اُٹھایا جاتا ہے اور جو آخری قدم ہے وہ بھی آپ ہی کی غلامی کا جوا اپنی گردن میں اُٹھانے سے نصیب ہوتا ہے۔آپ کی سچی اتباع ہی میں دین و دنیا کی کامیابی ہے تو پھر کیا لوگ تم سے یہ کہلوانا چاہتے ہیں اور کیا آپ یہ کہنے کے لئے تیار ہیں کہ (نعوذ باللہ ) خدا نہیں اور قرآن کریم جھوٹی کتاب ہے ( تمام حاضرین نے بیک زبان کہا نہیں۔ہرگز نہیں ) تو پھر کیا بعض لوگ دُنیا کی اس عارضی زندگی کے لئے اور دُنیا کی جو اسمبلیاں ہیں اُن میں سیٹیں حاصل کرنے کے لئے یا دوسرے چھوٹے چھوٹے فوائد حاصل کرنے کے لئے اسلام کو چھوڑ دیں گے ( اس پر بھی حاضرین نے کہا نہیں۔ہر گز نہیں چھوڑیں گے ) ہاں مگر احمدی کہلانے کے باوجود ؤ ہی اسلام کو چھوڑے گا جس کے دل میں نہ کبھی احمدیت داخل ہوئی اور نہ اسلام داخل ہوا۔جو پہلے بھی اسلام سے مرتد تھا اور اب اس رنگ میں اسلام سے ارتداد اختیار کر لیتا ہے۔وہ واقعی مسلمان نہیں ہے۔جبراً اسلام چھڑوانے والوں کا ایک سوال: میں یہ پوچھتا ہوں اُن لوگوں سے جو بعض لوگوں سے اسلام چھڑوانے کا اعلان کرواتے ہیں کہ وہ جو تم نے ارتداد کی سزا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔وہ اس ( مرتد ) پر جاری کیوں نہیں ہوتا۔مجھے تو سمجھ نہیں آتی۔یہ بھی ایک تضاد ہے۔ایک طرف کہتے ہیں کہ اسلام سے ارتداد کا اعلان کرو اور دوسری طرف کہتے ہیں بے شک اعلان کے باوجود ہم تمہیں وہ سزا نہیں دیں گے۔جو ہمارے علماء پتہ نہیں کب سے کہتے چلے آئے ہیں کہ مرتد کی یہ سزا ہے۔تو اگر واقعی وہ مرتد کی سزا ہے تو پھر تمہیں تو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ایسے شخص کو تم اس سزا سے محفوظ رکھو۔کہنے والوں نے یہ کہا تھا کہ اسلام مرتد کی یہ سزا مقرر کرتا ہے۔اگر اسلام کوئی سزا مقرر کرتا ہے تو پھر زید اور بکر کا یہ حق نہیں ہے کہ جو سزا اسلام نے مقرر کی تھی ، اسلام کے نام پر جو ملک بنا تھا اس میں وہ سزا نہ دی جائے۔باقی ہمارے نزدیک ارتداد کا جو مسئلہ ہے اور جسے قرآن کریم نے دُنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور جس پر متعصب سے متعصب دماغ بھی اعتراض نہیں کر سکتا۔وہ نہایت پاکیزہ مسئلہ ہے۔یعنی جہاں تک سزا کا تعلق ہے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نعوذ باللہ ظالم اور جابر ہے اور اپنے بندوں پر زبر دستی کرنا چاہتا ہے۔یہ دُنیا خدا کے قانون میں بندھی ہوئی ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے کہا