سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 307
307 سبیل الرشاد جلد دوم میرے پیدا کئے ہوئے اور بنائے ہوئے کھانے سے پیٹ بھرو گے تو سیری ہو گی۔یہ نہیں کہا کہ پتھروں سے پیٹ بھر لو تو سیر ہو جاؤ گے۔خدا تعالیٰ نے کہا میں نے تمہارے جسموں کی سیری اور اُن کی نشو و نما کے لئے جو چیزیں پیدا کی ہیں جتنی مقدار میں تمہاری ضرورت ہے اُتنی کھاؤ گے تو تمہاری صحت ٹھیک رہے گی۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے کہا میری طرف سے جو ہدایت نازل کی گئی ہے اُس پر عمل کرو گے تو تمہاری رُوحانی صحت ٹھیک رہے گی۔اور تمہاری روحانی نشو ونما صحیح طور پر ہوگی اور تمہیں روحانی نعمتیں ملیں گی۔دُنیا کے قانون دنیا کی لذتیں دیتے ہیں لیکن خدا نے جو قانون بنائے ہیں جن کو روحانی قوانین کہا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ انسان اُن کو توڑے نہیں۔بے راہ روی نہ دکھائے اور اُن پر عمل کرے تو کامیابی ہو گی۔ورنہ نہیں۔پس یہ ایک بنیادی تعلیم ہے اور اس کے مطابق ارتداد کے مسئلہ کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور کھل کر بیان کیا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس پر کوئی متعصب سے متعصب عیسائی یا ہندو یا دہریہ اعتراض نہیں کر سکتا۔اگر کوئی اعتراض کرے تو میں اس کو قائل کرنے کا ذمہ لیتا ہوں۔البتہ اگر کوئی ہٹ دھرمی سے کام لے تو اس سے اسلامی تعلیم پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔لیکن میں اس وقت اس مسئلہ میں نہیں جا رہا۔میں تو یہ بتا رہا ہوں کہ لوگوں نے مرتد کے بارہ میں جو مسئلہ بنایا تھا وہ شخص اس سزا سے کیسے بچ گیا جو اعلان کرتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔جماعت احمد یہ عشق الہی میں سرشار رہنے والی جماعت ہے : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کی تو غرض ہی یہ تھی کہ آپ کے ماننے والے اللہ تعالی کی تو حید پر صحیح معنے میں اور حقیقی طور پر قائم ہو جائیں اور خدا کی ذات اور صفات کو پہچاننے لگیں اور ایسے مقبول عمل کریں یعنی جن کے اندر کوئی نقص نہ ہو اور خدا تعالیٰ جنہیں قبول کر لے۔وہ خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کریں اور اس کے پیار کے جلوے اپنی زندگیوں میں اور اپنے ماحول میں دیکھنے لگیں۔پس جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتہائی طور پر عشق الہی رکھنے والی جماعت ہے اور جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت رکھنے والی جماعت ہے۔خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اپنے دل میں ایک پختہ عزم رکھنے والی جماعت ہے۔یہ خدا تعالیٰ سے کیسے منہ موڑلے گی۔اور اس سے کیسے اپنا تعلق قطع کرے گی۔تاہم دوست اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ جب میں جماعت احمد یہ کہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک احمدی اپنی استعداد کے مطابق عمل کرتا ہے۔کچھ سیکھ رہے ہیں، کچھ ترقی کر رہے ہیں اور کچھ ترقی کرنے کے بعد اور ترقی کر رہے ہیں ــــــــی