سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 305
305 سبیل الرشاد جلد دوم لگائے بیٹھے ہیں ) یہ اعلان کریں کہ (نعوذ باللہ ) خدا واحد و یگانہ نہیں ہے۔تین خدا ہیں یا دس خدا ہیں یا بت پرستوں کی طرح کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کو خدا مانے اور خود ہی اپنے ہاتھوں سے پتھر اور لکڑی کے بُت گھڑ کر اُن کے سامنے سجدے کرنے لگ جائیں اور خدائے واحد و یگانہ کو ماننا چھوڑ دیں۔اور یہ بات اُس قرآن کریم کو ماننے والے کہتے ہیں جس نے اہل کتاب سے بھی یہ کہا تھا کہ جب تم پکڑے جاتے ہو تو تم تثلیث کے قائل ہوتے ہوئے بھی کہتے ہو کہ اصل میں تو ہم ایک خدا کو مانتے ہیں۔میں ذاتی طور پر گواہ ہوں میں نے عیسائیوں سے باتیں کی ہیں۔جب اُن سے کوئی اور بات نہ بنے تو کہہ دیتے ہیں ہم تو ایک خدا کو مانتے ہیں۔چنانچہ اُن سے یہ کہا گیا کہ اچھا اگر تم ایک خدا کو مانتے ہو تو : تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا الله اس قرآن کریم کو ماننے والے کہتے ہیں کہ دُنیا کا ایک کروڑ احمدی یا بقول اُن کے اتنے احمدی نہیں تو جتنے بھی ہیں وہ خدا سے اپنا رشتہ توڑ دیں۔اُس خُدا سے تعلق توڑلیں جس کی طرف تمہیں قرآن کریم بلا رہا ہے اور جس کی طرف وہ خُو دکو منسوب کرتے ہیں۔پس جب بعض لوگ ہمیں یہ کہتے ہیں کہ تم اسلام کو چھوڑ دو اور اپنے آپ کو مسلمان نہ کہو تو دراصل اُن کا یہ مطالبہ ہوتا ہے اور وہ ہمارے منہ سے یہ کہلوانا چاہتے ہیں کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ قرآن کریم جھوٹ کا ایک پلندہ ہے اور اس کے اندر کوئی صداقت نہیں ہے۔اس کے اندر کوئی ہدایت نہیں ہے، اس کی تعلیم اور اس کی تربیت انسان کو خدا تعالیٰ تک لے جانے والی نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا پیار کسی نے حاصل کرنا ہو تو قرآن کریم کی ضرورت نہیں ہے۔کہتے ہیں تم اسلام کو چھوڑ دو اور اپنے آپ کو مسلمان نہ کہو تو گویا تم یہ کہلوانا چاہتے ہو کہ نعوذ باللہ وہ لاکھوں اعتراضات جو محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری اور حسین ذات پر عیسائیوں نے اور دوسرے لوگوں نے کئے ، وہ درست تھے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ صداقت اور حقیقت زندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے۔میں ایسے الفاظ اپنی زبان پر نہیں لا سکتا یعنی وہ الفاظ ہماری زبان پر نہیں آ سکتے۔ہماری زبانوں پر تو وہ الفاظ بھی نہیں آ سکتے جو بعض لوگوں نے اپنی کتابوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لکھے ہیں۔حالانکہ ہم تو اس کائنات کی پیدائش کی وجہ ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں۔اگر نبی کریم جیسی عظیم ہستی کو اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ کرنا ہوتا تو وہ اس کا ئنات ہی کو پیدا نہ کرتا۔اس کی کوئی اور حکمت چلتی۔وہ خدا ہے، وہ مالک ہے۔اس کی بڑی پر حکمت اور عظیم صفات ہیں۔لیکن ہماری یہ کائنات جو اس وقت ہمیں نظر آ رہی ہے۔ہمارے نزدیک اس سوره آل عمران آیت ۶۵