سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 294
سبیل الرشاد جلد دوم 294 ارب اکائی ہو یا اس کی استعداد ان گنت اکائیوں پر مشتمل ہو۔اگر کوئی شخص اپنی استعداد کے مطابق اپنی صلاحیت کے دائرہ میں اپنی استعدادا اور صلاحیت کی کامل نشو و نما کر لیتا ہے۔تو وہ گویا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کی کامل پیروی کرنے والا ہے اور اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ اس سے پیار کرے گا اور اسے ابدی جنت عطا ہوگی۔کیونکہ جہاں تک اسے پہنچنے کی طاقت دی گئی تھی وہاں تک وہ پہنچ گیا۔لیکن اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے فضلوں کی ناشکری کرتا ہے۔آج بھی ناشکری کرتا ہے۔جب مہدی آ گیا اور مسیح دنیا میں نازل کر دیا گیا اور وہ اپنی استعدادوں کی صحیح اور کامل نشو و نما کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتا یا مجاہدہ کے ساتھ اس میں کامیاب ہونے کی کوشش نہیں کرتا۔وہ اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کا وارث نہیں بن سکتا۔جن فضلوں کا وارث بننے کے لئے اس نے آپ کو پیدا کیا ہے اور توفیق دی کہ آپ مہدی معہود کی جماعت میں شامل ہو جا ئیں۔ذمہ واری نباہنے کے لئے دعا: پس یہ بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اس کے نباہنے کے لئے بھی بڑی دعا کی ضرورت ہے۔یہی وہ دوسری دعا ہے جس کی طرف میں آج احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ہم میں سے ہر شخص یہ دعا کرے کہ اے ہمارے رب ! ہم تہی دست اور کمزور اور ناکارہ ہیں۔تیری مدد کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔تو نے ہمیں قو تیں اور استعداد میں تو عطا فرمائیں اور تو نے ہمیں یہ حکم بھی دیا ہے کہ ان کی نشو ونما کو کمال تک پہنچاؤ مگر تیری مدد اور تیری نصرت ، تیرے فضل اور تیری رحمت کے بغیر ہم اپنی استعدادوں کی کامل نشو و نما نہیں کر سکتے اس لئے ہم تجھ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ تو اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ہمیں یہ تو فیق عطا فرما کہ ہم اپنی صلاحیتوں کی کامل نشو ونما کرسکیں۔ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسانِ کامل ہیں۔آپ تمام نبیوں سے افضل ہیں، آپ کا دائرہ استعداد اور دائرہ صلاحیت اتنا بڑا اور وسیع ہے کہ انسان کے تصور میں بھی نہیں آسکتا۔آپ کے روحانی کمالات اور فیوض کا دائرہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔اس میں ذرہ بھر بھی مبالغہ نہیں ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام روحانی کمالات کے جامع ہیں اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی کچی پیروی آج بھی انسان کو خدا کا مقرب اور محبوب بندہ بنا دیتی ہے۔اس لئے ہم دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا! ہمیں یہ توفیق عطا فرما کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی کامل پیروی کرتے ہوئے ہم اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کی نشو ونما کر سکیں اور اس نقطہ نگاہ سے ہم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل بن جائیں۔پھر یہ مماثلت جو ایک بہت بڑے کی ایک بہت چھوٹے کے ساتھ ہوگی اور بڑی حسین مماثلت ہوگی۔اس