سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 293
293 سبیل الرشاد جلد دوم لیکن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ تمام انبیاء کی صفات کے جامع تھے۔آپ کے فیوض و برکات کا دائرہ قیامت تک ممتد ہے اور خاتم الکتب آپ کے ہاتھ میں تھی۔اس لئے آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ میں تمام بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ کی توحید کے بندھنوں میں باندھوں گا۔پھر آپ نے یہ بشارت دی کہ میرا ایک محبوب مہدی ہو گا جو میر امثیل ہو گا۔یہاں تک کہ مجھ میں اور اس میں فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔فرق تو ہو گا مگر تم اس فرق کی طرف توجہ نہ دینا بلکہ اس نمونہ کو دیکھنا جو میری اتباع کامل کے نتیجہ میں وہ پیش کرے گا۔گویا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اسی طرح حضرت مہدی معہود کا وجود بھی بوجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل انعکاس اور کامل اتباع کے اس زمانے میں بہترین نمونہ ہے۔فنافی الرسول : در حقیقت مہدی معہود علیہ السلام کی اپنی کوئی شخصیت نہیں ہے۔آپ کا وجود تو وہ مصفا آئینہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی انوار کو اپنی پوری شان کے ساتھ ہم تک پہنچا رہا ہے۔یہ روشنی شیشے کی نہیں۔یہ روشنی اس روحانی آفتاب کی ہے جو چودہ سو سال پہلے فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوا تھا۔یہ قوت قدسیہ اور روحانی تاثیرات مہدی کی نہیں بلکہ اُسی انسان کامل اور افضل الرسل کی ہیں جو خدا کی صفاتِ حسنہ کا مظہر اتم اور تمام کمالات روحانی کا جامع تھا۔پس مہدی معہود کا اپنا تو کوئی وجود ہی نہیں رہا۔وہ تو فنافی الرسول کے درجہ کو پہنچ کر اپنے وجود کو محمد کی ذات میں فنا کر بیٹھا۔اس مہدی کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی انوار اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا کے دلوں کو موہ لینے کے لئے آپ تک پہنچ گئے۔اب ہم میں سے ہر ایک پر ، مجھ پر بھی اور آپ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس مماثلت کو حاصل کرنے کی انتہائی کوشش کریں۔اس کے حصول کا امکان پیدا ہو چکا ہے۔اسلام کی اس بڑی ہی عجیب اور حسین تعلیم کو پھر سے اُشکارا کیا جا چکا ہے، تاہم اس امر کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ لَا يُكَلَّفَ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کی رُو سے کسی بھی انسان سے اس کی خدا داد قوت و طاقت اور استعداد سے باہر کچھ بھی نہیں مانگا جائے گا۔یہاں وسع“ میں وسعتِ نفس سے مراد استعداد نفس ہے یا وسعت سے مرا دصلاحیت نفس ہے۔اس لئے گو ہر ایک انسان کی صلاحیت اور استعداد مختلف ہوتی ہے لیکن ہر انسان سے آج یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں کی کامل نشو ونما کو کمال تک پہنچائے اور پھر سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دے۔ہر شخص اس بات کا مکلف ہے کہ خواہ اس کی استعداد مثلاً ایک اکائی ہو۔خواہ اس کی استعداد ایک