سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 291
291 سبیل الرشاد جلد دوم تفصیل سے ہے جو آپ کی زندگی میں عیاں ہے۔گویا ایک اجمالی پہلو ہے اور دوسرا تفصیلی۔جس طرح بنیا د چھپی ہوئی ہوتی ہے اور عمارت نظر آ رہی ہوتی ہے۔اسی طرح آپ کی زندگی کا ایک پہلو مجمل اور دوسر اتفصیلی یعنی ظاہر و عیاں۔تاہم آپ کی زندگی کے یہ دونوں پہلو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔یہ ایک ایسی صداقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔حضور تمام انسانوں سے افضل ہیں : اسی طرح یہ بھی ایک صداقت ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی اہم اور وسیع ذمہ داریاں سونپی تھیں۔اس لئے آپ اپنی استعداد کے لحاظ سے تمام بنی نوع انسان سے افضل ہیں۔گویا آپ کی افضیلت کا ایک یہ پہلو بھی ہے کہ آپ اپنی استعداد اور صلاحیت کے لحاظ سے تمام بنی نوع انسان سے افضل ہیں۔لازمی طور پر اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ کوئی دوسرا انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بن سکتا۔اس لئے کہ کسی دوسرے انسان کو اللہ تعالیٰ نے نہ وہ قوت و طاقت دی اور نہ وہ استعداد دی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منفرد ہیں۔بعض لوگ یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے روک دیا کہ کوئی شخص حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام تک نہ پہنچے یا ان سے آگے نہ نکلے۔یہ سوال نہیں ہے۔یہ اعتراض غلط ہے۔حقیقت کو سمجھا ہی نہیں گیا۔سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا یعنی ہر فرد پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ اپنی استعداد کے مطابق اپنی جسمانی اور ذہنی قوتوں کی نشو ونما کرے اور اپنے اندر روحانیت اور اخلاق پیدا کرے۔لیکن جو چیز اس کی استعداد سے باہر ہے اس کی اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے پس چونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت محمدیہ کے لئے اسوۂ حسنہ ہیں اس لئے اپنی اپنی استعداد کی کامل نشو ونما کے لحاظ سے اس امت میں آپ کے شبیہ اور مثل لاکھوں کروڑوں پیدا ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل استعدادوں کے مالک تھے۔لیکن کسی دوسرے کی استعداد کامل نہیں۔اس لئے کمال استعداد میں تو مماثلت ممکن نہیں۔لیکن آپ نے جو اپنی استعدادوں کی کامل نشو و نما کی تھی اسی طرح آپ کے متبعین میں سے لاکھوں کروڑوں نے اپنے اپنے دائرہ استعداد میں سنتِ نبوی کے مطابق اپنی اپنی استعدادوں کی کامل نشو ونما کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مثل بن گئے۔لیکن استعدادوں کے فرق نے ان دونوں کے مراتب کے درمیان آسمان وزمین کا فرق ڈال دیا۔جیسا کہ بشارتیں دی گئی تھیں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روحانی طور پر مستفیض ہونے سورة البقره آیت ۲۸۷