سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 292
292 سبیل الرشاد جلد دوم والا اور آپ کی کامل اتباع کے لحاظ سے آپ کا کامل متبع ایک ہی وجود ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مثیل محبوب اور پیارا ہے۔جسے آپ نے اپنا مہدی قرار دیا ہے۔آپ نے فرمایا ان لِمَهْدِينَا۔ہمارے مہدی کی یہ یہ علامت ہے۔ظاہر ہے کہ جس پیارے وجود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مہدی کہا ہو وہ آپ کے قریب تر ہے۔گو وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو نہیں بنا اور نہ بن سکتا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل انعکاس کی وجہ سے ہر دو میں فرق کرنا ایک عام انسان کے لئے مشکل ہے۔اس لئے انسان کو اس مشکل مسئلہ میں نہیں پڑنا چاہئے۔ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ انعکاسی طور پر کوئی انسان جتنا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوسکتا تھا اور آپ کی خوبیوں اور صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھا سکتا تھا اتنا مقرب اور اس حد تک ایک مثیل بن گیا۔جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اصطلاح میں مہدی کہا گیا ہے۔اور بھی مہدی تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے علم قرآن سیکھا اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالا۔لیکن مہدی ، مہدی میں اسی طرح فرق ہے جس طرح نیک ، نیک میں فرق ہوتا ہے۔مطہر مطہر میں فرق ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو جذب کرنے میں فرق ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرنے اور اس کی قبولیت ، قبولیت میں فرق ہوتا ہے۔پس وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل انعکاس لے کر کامل ظل بن کر آیا اور آپ کی کامل مثل اور شبیہہ بن کر آیا اور مہدی کہلایا۔وہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہے کہ اگر مہدی کے مقام کو پہچان لیا جائے تو عام انسان کی آنکھیں ان دو میں فرق نہیں کر سکتیں۔اسی لئے حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے حق میں آپ ہی کی زبان سے کہلوایا گیا۔مَنْ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفَى فَمَا عَرَفَنِي وَمَا رَأَى یعنی اگر تمہاری آنکھ مجھ میں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں فرق کرے تو یہ تمہاری سمجھ کا قصور ہے۔مہدی معہود اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہے کہ تمہاری آنکھ اس فرق کو نہیں پہچان سکتی۔اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے مہدی کی عظمت اور اس کے مقام کو نہیں پہچانا۔اسی لئے فرمایا کہ مجھ میں اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق نہ کرنا اور یہ اس لئے کہ آپ کی ذات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل انعکاس تھا۔اور فنا فی محمد کا مقام آپ کو حاصل تھا۔اسلام سے قبل چونکہ ملک ، ملک اور زمانے ، زمانے کے حالات مختلف تھے اس لئے ہر ملک اور زمانہ کے حالات کے مطابق نبی آئے اور اپنے اپنے حالات میں بنی نوع انسان کی اصلاح کی کوشش کی 1 خطبہ الہامیہ صفحه ۲۵۹ روحانی خزائن جلد ۱۶