سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 290
290 سبیل الرشاد جلد دوم نے دیکھا ہے میرے سات خطبوں کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیان کردہ ایک ایسا تفسیری نکتہ ہوتا ہے جسے آپ نے صرف ایک فقرہ میں بیان فرمایا ہے۔جس طرح قرآن کریم فی نفسہ ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کے اندر مکنون یعنی چھپی ہوئی باتیں قیامت تک دعوت غور وفکر دیتی رہیں گی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر گو اس رنگ میں تو نہیں لیکن ایک رنگ میں ایسی ضرور ہے کہ اس میں سے نئے سے نئے علوم قر آنی ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں جو قرآن کریم کے مکنون حصے کی تفاسیر کو سمجھنے کے لئے گویا کنجی کا کام دیتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کا دروازہ نہ پہلے بند تھا اور نہ اب بند ہے۔قرآن کریم کے متعلق یہ سمجھ لینا کہ حالات حاضرہ میں یا مستقبل میں پیش آنے والے جو مسائل ہیں قرآن کریم میں اُن کے حل کرنے کی طاقت نہیں ہے، سراسر غلط اور قرآن کریم کو مہجور بنانے کے مترادف ہے۔قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے۔اللہ تعالیٰ پہلے کی طرح اب بھی اپنے مظہر بندوں کو اس کے نئے سے نئے علوم سکھائے گا۔پس دوست دُعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ کے مظہر بندوں کو جو نئے سے نئے علوم اور اسرار روحانیہ سکھائے جائیں اللہ تعالیٰ اُن کے قبول کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔انصار اللہ اس دُعا پر بہت زور دیں غرض ایک تو یہ دُعا ہے جس پر میں چاہتا ہوں کہ جماعت زور دے خصوصاً انصار اللہ۔یہ وہ دُعا ہے جس کے نتیجہ میں اُن (انصار اللہ ) پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اُن سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اُن سے تعلق رکھنے والی بچیاں اور اُن سے تعلق رکھنے والے بچے یا اُن کے چھوٹے بھائی غرض سب کو وہ چوکس اور بیدار رکھیں اور اُن کی تربیت اس رنگ میں کریں کہ اُن کے لئے قرآن کریم کبھی مجبور نہ بنے کیونکہ جیسا کہ میں مثالیں دے کر واضح کر چکا ہوں۔اس سے بڑے ہولناک اور تباہ کن نتائج پیدا ہوتے ہیں۔دوسری اہم دُعا : دوسری دعا جس کی طرف میں دوستوں کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ مختصراً یہ ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ گو یا اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے اور اخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی نعماء کا اہل بننے کے لئے ، قرآن کریم کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات بنیادی طور پر اسوۂ حسنہ ہے۔اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دو پہلو ہیں۔آپ کی زندگی کا ایک پہلو بطور اسوۂ حسنہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔دوسرے پہلو کا تعلق اس بنیاد پر کھڑی ہونے والی عمارت سے ہے یعنی اس سورۃ الاحزاب آیت ۲۲